بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کن‌عورتوں‌سے‌نکاح‌جائز‌ہے؟

سوتیلے‌والد‌کا‌بیٹے‌کی‌ساس‌سے‌نکاح‌جائز‌ہے

سوال:۔

چند روز پہلے پنجاب کے ایک گاؤں سے میرے دوست کا خط آیا، جس میں اس نے بتایا ہے کہ گاؤں میں ایک نکاح اس طرح ہونے والا ہے کہ جسے گاؤں کی اکثریت قبول کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ زید کے والد کا انتقال ہوگیا تو اس کی والدہ نے دُوسرا نکاح کرلیا، اسی دوران ماں کے بطن سے ایک بچی بھی پیدا ہوئی، کچھ دنوں بعد زید نے کسی بیوہ کی لڑکی سے شادی کرلی،عنقریب زید کا سوتیلا والد مذکورہ بیوہ یعنی زید کی ساس سے نکاح کرنے والا ہے۔ آپ یہ بتائیے کہ کیا یہ نکاح شریعت میں جائز ہے یا ناجائز؟ عین ممکن ہے گاؤں کا یہ شخص جو کہ زمین دار کہلاتا ہے آپ کا جواب سن کر استفادہ کرسکے اور اگر کسی گناہ کے سرزد ہونے کا امکان ہے تو بچ سکے۔

جواب:۔

زید کے سوتیلے والد کا زید کی ساس کے ساتھ نکاح جائز ہے۔(۱)

  1. (۱) قال تعالٰی: ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ ﵞالنساء ٢٣۔۔۔ﵟ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمۡ ﵞ النساء ٢٤۔أی: ما عدا من ذُکرن من المحارم، ھُن لکم حلال، قالہ عطاء وغیرہ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۲۳۰، سورۃ النساء:۲۴، طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، أیضًا: أحکام القرآن للجصاص ج:۲ ص:۱۳۹، طبع سھیل اکیڈمی لَاھور)۔ وفی الفتاوی الشامیۃ (ج:۳ ص:۳۱) باب المحرمات: قال الخیر الرملی: ولَا تحرم بنت زوج الأم۔۔۔ ولَا أم زوجتہ الْإبن ولَا بنتھا، ولَا زوجۃ الربیب ولَا زوجۃ الراب۔