بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کن‌عورتوں‌سے‌نکاح‌جائز‌ہے؟

بیوی‌اور‌اس‌کی‌سوتیلی‌ماں‌کو‌نکاح‌میں‌جمع‌کرنا‌جائز‌ہے

سوال:۔

خسر کی بیوی جو اپنی زوجہ کی حقیقی ماں نہیں ہے، خسر کے انتقال کے بعد پہلی منکوحہ کی زندگی میں اس بیوہ سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟

جواب:۔

ایسی دو عورتوں کو نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں کہ ان دونوں میں سے کسی کو اگر مرد فرض کرلیا جائے تو دونوں کا نکاح نہ ہوسکے، مثلاً: دو بہنیں، خالہ بھانجی، پھوپھی اور بھتیجی۔(۱) اس اُصول کو سامنے رکھ کر غور کیجئے کہ ایک لڑکی اور اس کی سوتیلی ماں کے درمیان رشتہ کیا ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر لڑکی کو مرد فرض کرلیا جائے تو اس کا نکاح سوتیلی ماں کے ساتھ نہیں ہوسکتا، لیکن اگر سوتیلی ماں کو مرد فرض کرلیا جائے (تو اس صورت میں چونکہ وہ سوتیلی ماں نہیں ہوسکتی اس لئے) لڑکی سے اس کا عقد جائز ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکی اور اس کی سوتیلی والدہ کو ایک نکاح میں جمع کرنا جائز ہے۔ اس لئے خسر کی بیوہ سے جو بیوی کی سوتیلی ماں ہے بیوی کی موجودگی میں نکاح جائز ہے۔(۲)

  1. (۱) لَا یجوز الجمع بین امرأتین لو کانت إحداھما ذکرًا لَا یجوز لہ أن تتزوّج بالاُخریٰ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ج:۲ ص:۷ طبع کوئٹہ)۔ (قولہ وبین إمرأتین أیۃ فرضت ذکرًا حرم النکاح) أی حرم الجمع بین إمرأتین إذا کانتا بحیث لو قدرت إحداھما ذکرًا حرم النکاح بینھما أیتھما کانت المقدرۃ ذکرًا کالجمع بین المرأۃ وعمّتھا، والمرأۃ وخالتھا، والجمع بین الأم والبنت نسبًا أو رضاعًا لحدیث مسلم ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۰۴، فصل فی المحرمات، طبع دار المعرفۃ)۔
  2. (۲) وقید بقولہ ’’أیَّۃٌ فرضت‘‘ لأنہ لو جاز نکاح إحداھما علٰی تقدیر مثل المرأۃ وبنت زوجھا أو إمرأۃ إبنھا فإنہ یجوز الجمع بینھما عند الأئمۃ الأربعۃ وقد جمع عبداللہ بن جعفر بین زوجہ علی وبنتہ ولم ینکر علیہ أحد وبیانہ أنہ لو فرضت بنت الزوج ذکرًا بأن کان ابن الزوج لم یجز لہ ان یتزوج بھا، لأنھا موطؤۃ أبیہ، ولو فرضت المرأۃ ذکرًا لجاز لہ ان یتزوج ببنت الزوج لأنھا بنت رجل أجنبی۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۰۵، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔