بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کن‌عورتوں‌سے‌نکاح‌جائز‌ہے؟

ناجائز‌تعلقات‌والے‌مرد‌و‌عورت‌کا‌آپس‌میں‌نکاح‌جائز‌ہے

سوال:۔

کسی عورت کے ساتھ کسی مرد کے ناجائز تعلقات ہوجائیں تو اس کے بعد اس عورت اور مرد کے درمیان نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اگر نکاح ہوسکتا ہے تو کیا سابقہ تعلقات کی بنا پر گناہ اس کے سر رہیں گے یا نہیں؟

جواب:۔

نکاح ہوسکتا ہے،(۱) سابقہ تعلقات کا وبال ان پر بدستور رہے گا اور ان سے توبہ و اِستغفار لازم ہے، نکاح کے بعد ایک دُوسرے کے لئے حلال ہوں گے۔

  1. (۱) لَا تجب العدۃ علی الزانیۃ وھٰذا قول أبی حنیفۃ ومحمد رحمھما اللہ تعالٰی کذا فی شرح الطحاوی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۲۶)۔ وعلٰی ھٰذا یخرج ما إذا تزوج إمرأۃ حاملًا من الزنا أنہ یجوز فی قول أبی حنیفۃ ومحمد لٰـکن لَا یطؤھا حتّٰی تضع۔۔۔ لھما أن المنع من نکاح الحامل حملًا ثابت النسب لحرمۃ ماء الوطؤ، ولَا حرمۃ لماء الزنا بدلیل أنہ لَا یثبت بہ النسب قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: الولد للفراش وللعاھر الحجر، فإذا لم یکن لہ حرمۃ لَا یمنع جواز النکاح إلّا أنھا لَا توطأ حتّٰی تضع ۔۔۔إلخ۔ (البدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۶۹، کتاب النکاح، طبع ایچ ایم سعید)۔