کنعورتوںسےنکاحجائزہے؟
زناکےحملکیصورتمیںنکاحکاجواز
سوال:۔
آپ سے ایک عورت نے یہ سوال کیا تھا: ’’میرا نکاح ہوا تو غیرآدمی کا حمل پیٹ میں تھا، اس نکاح کے بعد سات سال ہوچکے ہیں اور دو بچے بھی ہیں، خدا کے واسطے مولانا صاحب آپ بتلائیے کہ میں کیا کفارہ ادا کروں؟‘‘ جواب میں آپ نے فرمایا تھا: ’’آپ کا نکاح جو ناجائز حمل کی حالت میں ہوا، صحیح تھا۔۔۔‘‘
مولانا صاحب! عرض ہے کہ آپ کا مندرجہ بالا جواب کس فقہ کے مطابق ہے؟ کسی ایک کتاب کا حوالہ دیجئے، میں بے حد ممنون و مشکور ہوں گا۔ کیونکہ بعض علمائے کرام کے مطابق غیرآدمی سے حاملہ عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا، صرف زانی مرد سے ہوسکتا ہے، اور اگر حاملہ عورت سے نکاح نہیں ہوسکتا یا ہوسکتا ہے تو پھر بیوہ یا مطلقہ عورت کا نکاح بھی حاملہ کی صورت میں ہوسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:۔
میں نے جو مسئلہ لکھا ہے وہ فقہِ حنفی کی تقریباً ساری بڑی کتابوں میں موجود ہے، درمختار میں ہے:
’’وَصَحَّ نِكَاحُ حُبْلَى مِنْ زِنًى۔۔ وَإِنْ حَرُمَ وَطْؤُهَا حَتَّى تَضَعَ، لَوْ نَكَحَهَا الزَّانِي حَلَّ لَهُ وَطْؤُهَا اتِّفَاقًا۔۔‘‘ (درمختار مع رد محتار ج:۳ ص:۴۸ طبع جدید)
اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
’’وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً حَامِلًا مِنَ الزِّنَا وَلَا يَطَأْهَا حَتَّى تَضَعَ۔
وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَصِحُّ، وَالْفَتْوَى عَلَى قَوْلِهِمَا، كَذَا فِي الْمُحِيطِ۔‘‘ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۰)
ان عبارات سے معلوم ہوا کہ مفتیٰ بہ قول کے مطابق حاملہ کا نکاح زانی اور غیرزانی دونوں سے ہوجاتا ہے، فرق یہ ہے کہ وضعِ حمل سے پہلے زانی صحبت کرسکتا ہے اور غیرزانی نہیں کرسکتا۔ جس خاتون نے مسئلہ پوچھا تھا اس کا کیس کئی سال پُرانا تھا، اس لئے اس کو صرف نکاح کے صحیح ہونے کا مسئلہ بتادیا گیا۔ دُوسرا حصہ اس سے متعلق نہیں تھا، اس لئے اسے ذکر نہیں کیا گیا۔ بیوہ یا مطلقہ عورت کا نکاح حمل میں نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ عدّت میں ہے، اور عدّت میں نکاح جائز نہیں،(۱) بخلاف اس حمل کے جو زنا سے ہو، اس کی کوئی عدّت نہیں، اس لئے کہ عدّت حرمتِ نسب کے لئے مقرّر کی گئی ہے اور حملِ زنا کی کوئی حرمت نہیں۔(۲) تعجب ہے کہ علمائے کرام کو اس مسئلے میں کیوں اِشکال پیش آیا۔
- (۱) قال تعالٰی: ﵟ وَأُوْلَٰتُ ٱلۡأَحۡمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّۚ ﵞ الطلاق ٤۔ أیضًا: فصل: ومنھا أن لَا تکون معتدۃ الغیر لقولہ تعالٰی: ﵟ وَلَا تَعۡزِمُواْ عُقۡدَةَ ٱلنِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ ٱلۡكِتَٰبُ أَجَلَهُۥۚ ﵞ، أی ما کتب علیھا من التربص ولأن بعض أحکام النکاح حالۃ العدۃ قائم فکان النکاح قائمًا من وجہ۔۔۔ وسواء کانت العدۃ عن طلاق أو عن وفاۃ ۔۔۔إلخ۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۶۸، کتاب النکاح، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۲) لَا تجب العدۃ علی الزانیۃ وھٰذا قول أبی حنیفۃ ومحمد رحمھما اللہ تعالٰی کذا فی شرح الطحاوی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۲۶)۔ وعلٰی ھٰذا یخرج ما إذا تزوج إمرأۃ حاملًا من الزنا أنہ یجوز فی قول أبی حنیفۃ ومحمد لٰـکن لَا یطؤھا حتّٰی تضع۔۔۔ لھما أن المنع من نکاح الحامل حملًا ثابت النسب لحرمۃ ماء الوطؤ، ولَا حرمۃ لماء الزنا بدلیل أنہ لَا یثبت بہ النسب قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: الولد للفراش وللعاھر الحجر، فإذا لم یکن لہ حرمۃ لَا یمنع جواز النکاح إلّا أنھا لَا توطأ حتّٰی تضع ۔۔۔إلخ۔ (البدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۶۹، کتاب النکاح، طبع ایچ ایم سعید)۔

