عقیدےکےلحاظسےجنسےنکاحجائزنہیں
کرسچینبیویکینومسلمبہنسےنکاح
سوال:۔
میں ایک کرسچن عورت ہوں، میرا شوہر میری بہن کو بھگاکر اوکاڑہ لے گیا، جبکہ وہ لڑکی بھی عیسائی ہے، دونوں مسلمان ہوئے اور نکاح کرلیا۔ جبکہ میرے چھ بچے ہیں، نہ مجھے طلاق دی اور نہ بتایا۔ آپ سے عرض یہ ہے کہ آپ کا مذہب اسلام شرعی طور پر اس کی کیا اجازت دیتا ہے کہ دونوں بہنوں سے نکاح جائز ہے، اور دونوں کو نکاح میں رکھ سکتا ہے، جبکہ ایک عیسائی ہو اور دُوسری مسلمان؟ تفصیل سے جواب دیں، میرا مقدمہ عدالت میں چل رہا ہے۔
جواب:۔
شرعاً دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں۔(۱) اور عیسائی (اہلِ کتاب) میاںبیوی کے جوڑے میں سے اگر شوہر مسلمان ہوجائے تو نکاح باقی رہتا ہے، لہٰذا آپ کا نکاح بدستور باقی ہے،(۲) جب تک کہ اس نے طلاق نہ دی ہو۔ اور جب تک آپ کا نکاح باقی ہے، وہ آپ کی بہن سے نکاح نہیں کرسکتا۔ عدالت کا فرض ہے کہ ان دونوں کے درمیان علیحدگی کرادے، واللہ اعلم!
- (۱) ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ ــ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۗ ﵞ النساء ٢٣۔
- (۲) وإذا أسلم زوج الکتابیۃ، فھما علٰی نکاحھما لأنہ یصح النکاح إبتداءً فلان یبقی اولٰی۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۴۷، کتاب النکاح، باب نکاح أھل الشرک)۔

