بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدے‌کے‌لحاظ‌سے‌جن‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

نصرانی‌عورت‌سے‌نکاح

سوال:۔

نصاریٰ خود حق تعالیٰ کے قول: ﵟ وَلَا تَقُولُواْ ثَلَٰثَةٌۚ ﵞسے مشرک ہیں، اور مشرک عورتوں سے نکاح جائز نہیں، جیسا کہ اِرشادِ اِلٰہی: ﵟوَلَا تَنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكَٰتِﵞمیں اس کی تصریح ہے، پھر نصاریٰ کی عورتوں سے نکاح کیوں جائز ہے؟ جس وقت قرآن اُترا تھا اس وقت بھی قرآن کے مطابق وہ مشرک تھے، لہٰذا یہ کہنا کہ پہلے ان سے نکاح جائز تھا، اور اب ناجائز ہے، کچھ معقول نہیں معلوم ہوتا۔

سوال:۔

آپ نے فرمایا کہ: محققین کے نزدیک کتابیات کی حلّت ﵟوَلَا تَنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكَٰتِ ﵞکے قاعدے سے مستثنیٰ ہے، اس جواب سے تسلی نہیں ہوئی۔

جواب:۔

بہت سے اہلِ علم کو یہی اِشکال پیش آیا، اور انہوں نے کتابیات سے نکاح کو عام مشرکین کے ساتھ مشروط کیا، لیکن محققین کے نزدیک کتابیات کی حلّت ﵟوَلَا تَنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكَٰتِ ﵞکے قاعدے سے مستثنیٰ ہے۔(۱)

جواب:۔

مطلب یہ کہ نصرانیات کا ’’مشرکات‘‘ ہونا تو واضح ہے، اس کے باوجود ان سے نکاح کی اِجازت دی گئی ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہﵟوَلَا تَنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكَٰتِﵞکا حکم کتابیات کے لئے نہیں، غیرکتابیات کے لئے ہے۔

  1. (۱) وأما الآیۃ فھی فی غیر الکتابیات من المشرکات لأن أھل الکتاب وإن کانوا مشرکین علی الحقیقۃ لٰـکن ھٰذا الْإسم فی متعارف الناس یطلق علی المشرکین من غیر أھل الکتاب، قال اللہ تعالٰی: ﵟ مَّا يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ وَلَا ٱلۡمُشۡرِكِينَ ﵞ۔۔۔ فصل بین الفریقین فی الْإسم علٰی أن الکتابیات وإن دخلن تحت عموم إسم المشرکات بحکم ظاھر اللفظ لٰـکنھن خصصن عن العموم لقولہ تعالٰی:ﵟ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ ﵞ۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۷۱، کتاب النکاح)۔