عقیدےکےلحاظسےجنسےنکاحجائزنہیں
غیرمسلمممالکمیںشہریتکےحصولکےلئےعیسائیعورتسےنکاحکرنا
سوال:۔
کوئی مسلمان اپنی مسلمان بیوی کے ہوتے ہوئے کسی دُوسرے غیرمسلم ملک میں صرف ملازمت کی خاطر عیسائی عورت سے شادی کرسکتا ہے کہ نہیں؟ اور ایسا کرنے کی شکل میں اس کا پہلا نکاح کیسا ہوگا، باقی رہے گا؟ وہ مسلمان (عورت) اس کے لئے حلال ہوگی؟ اور اس مسلمان شخص کا اِیمان باقی رہے گا؟ اور اس کی کمائی، دولت مسجد میں لگانا کیسا ہوگا؟
جواب:۔
پہلے سے مسلمان بیوی کا نکاح میں ہونا تو عیسائی عورت کے ساتھ نکاح کرنے سے مانع نہیں، البتہ چند دیگر وجوہ کی بنا پر ایسی شادی ناجائز ہے۔
اوّلاً:۔ اہلِ کتاب کی جن عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے، ان سے مراد وہ اہلِ کتاب ہیں جو دارُالاسلام کے شہری ہوں، جن کو ’’ذِمی‘‘ کہا جاتا ہے، دارُالکفر کے باشندے مراد نہیں، لہٰذا اِسلامی مملکت کی ذِمی عورتوں سے، جبکہ وہ اہلِ کتاب ہوں، نکاح کی اِجازت ہے، مگر مکروہِ تنزیہی ہے۔ اور جو اہلِ کتاب دارُالحرب میں رہتے ہیں، ان کی عورتوں سے نکاح مکروہِ تحریمی ہے، (اور مکروہِ تحریمی، حرام کے قریب قریب ہونے کی وجہ سے ناجائز کہلاتا ہے)۔ لہٰذا یہ نکاح منعقد تو ہوجائے گا، مگر مکروہِ تحریمی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا، اور ایسا کرنے والا گناہگار ہوگا۔(۱)
ثانیاً:۔ اہلِ کتاب کی عورتوں کے ساتھ نکاح کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ واقعتا اہلِ کتاب ہوں بھی، محض نام کے عیسائی، یہودی نہ ہوں۔(۲) آج کل کے بہت سے یہود ونصاریٰ صرف نام کے یہودی، عیسائی ہیں، ورنہ واقع کے اِعتبار سے وہ قطعاً ملحد ہوتے ہیں، وہ نہ کسی کتاب کے قائل ہیں، نہ کسی نبی کے، نہ دِین ومذہب کے، اگر ایسی عیسائی عورت ہو جو صرف قومی طور پر عیسائی کہلاتی ہے، واقعتا ملحد اور لادِین ہو، اس کے ساتھ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا، اور ایسا جوڑا شرعی نقطۂ نظر کے لحاظ سے بدکاری وزِناکاری کا مرتکب شمار ہوگا۔(۳)
ثالثاً:۔ کسی مسلمان نے اہلِ کتاب کی عورت سے شادی کی ہو تو شرعی قانون کے لحاظ سے اولاد مسلمان شمار ہوگی،(۴) لیکن دیارِغیر میں عیسائی عورتوں سے جو شادیاں رچائی جاتی ہیں، ان سے پیدا ہونے والی اولاد اپنی ماں کا مذہب اِختیار کرلیتی ہے، بلکہ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ شادی سے پہلے یہ جوڑا طے کرلیتا ہے کہ آدھی اولاد شوہر کی ہوگی اور آدھی بیوی کے مذہب پر ہوگی، اگر ایسی شرط لگائی جائے تو ایسی شادی کرنے والا مسلمان یہ شرط لگاتے ہی مرتد ہوجائے گا، کیونکہ اس نے اپنی اولاد کے کافر ہونے کو گوارا کرلیا اور اس پر رضامندی دے دی، اور کسی کے کفر پر راضی ہونا بھی کفر ہے۔(۵) لہٰذا ایسی شرط لگاتے ہوئے ہی یہ شخص اِیمان سے خارج ہوکر مرتد ہوجائے گا، اور اس کی پہلی بیوی نکاح سے خارج ہوجائے گی۔(۶)
رابعاً:۔ ہمارے بھولے بھالے نوجوان امریکا وغیرہ کی شہریت حاصل کرنے اور روٹی کمانے کا ذریعہ پیدا کرنے کی خاطر عیسائی عورتوں کے چکر میں تو پڑجاتے ہیں، لیکن ان ممالک کے قانون کے مطابق چونکہ طلاق کا حق مرد کے بجائے عورت کو حاصل ہے، لہٰذا ایسی عورتیں جن کے جال میں ہمارے بھولے بھالے نوجوان پھنسے تھے، ان کو طلاق دے کر، گھر بار بھی اور اولاد پر بھی قبضہ کرلیتی ہیں، اور یہ شوہر صاحب ﵟ خَسِرَ ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةَۚ ﵞکا مصداق دونوں جہان میں راندۂ درگاہ ہوجاتا ہے۔ چونکہ فقہ کا قاعدہ ہے: ’’المَعْرُوْفُ كَالْمَشْرُوْطِ‘‘ یعنی جس چیز کا عام رِواج اور عرف ہو، اس کو ایسا سمجھنا چاہئے کہ گویا عقد کے وقت اس کی شرط رکھی گئی تھی، لہٰذا ان ممالک کے عرف کے مطابق گویا یہ شخص اس شرط پر نکاح کر رہا ہے کہ عورت جب چاہے اس کو طلاق دے کر بچوں پر قبضہ کرلے۔
ان وجوہات کی بنا پر غیرممالک میں مسلمان نوجوانوں کا عیسائی عورتوں سے شادی کرنا ناجائز ہے۔ اور دُوسری وجہ کی بنا پر نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔ اور تیسری وجہ چونکہ موجبِ کفر ہے، اس لئے اس صورت میں اس کا پہلی بیوی سے نکاح فسخ ہوجائے گا۔ اور چوتھی وجہ میں بھی اندیشۂ کفر ہے۔ البتہ اگر کوئی کفریہ شرط نہیں رکھی گئی تھی اور نہ معروف تھی، تو پہلی بیوی اس کے نکاح میں رہے گی، مگر یہ شخص عیسائی عورت سے نکاح کرنے کی بنا پر گناہگار ہوگا۔ هٰذَا مَا عِنْدِي، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ!
- (۱) وإذا تزوّج المسلم کتابیۃ حربیۃ فی دار الحرب جاز ویکرہ۔ (عالمگیری ج:۱۰ ص:۲۸۱)۔ وما ذکر عنہ (أی ابن عمر) من الکراھۃ یدل علٰی أنہ لیس علٰی وجہ التحریم کما یکرہ تزوج نساء أھل الحرب من الکتابیات۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۱ ص:۳۳۳، باب نکاح المشرکات، طبع سھیل اکیڈمی)۔ أیضًا: ویجوز تزوج الکتابیات، والأولٰی أن لَا یفعل ولَا یأکل ذبیحتھم إلّا لضرورۃ وتکرہ الکتابیۃ الحربیۃ إجماعًا لِافتتاح باب الفتنۃ۔ (درمختار ج:۳ ص:۴۵)۔
- (۲) (وصح نکاح کتابیۃ) وإن کرہ تنزیھًا (مؤمنۃ بنبی) مرسل (مقرۃ بکتاب) منزل وإن اعتقدوا المسیح إلٰھًا (قولہ مقرۃ بکتاب) فی النھر عن الزیلعی، واعلم أن من اعتقد دینًا سماویًا ولہ کتاب منزل کصحف إبراھیم وشیث، وزبور داوٗد، فھو من أھل الکتاب، فتجوز منکاحتھم۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج:۳ ص:۴۵، کتاب النکاح)۔
- (۳) لَا یجوز نکاح المجوسیات ولَا الوثنیات، ویدخل فی عبدۃ الأوثان عبدالشمس والنجوم، والصور التی استحسنوھا والمعطلۃ، والزنادقۃ، والباطنیۃ، والْاباحیۃ، وکل مذھب یکفر بہ معتقدہ کذا فی فتح القدیر۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۱ کتاب النکاح، القسم السابع المحرمات بالشرک)۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: معارف القرآن ج:۳ سورۃ المائدۃ ص:۴۸،۴۹ اور ۶۰ تا ۶۴۔
- (۴) فإن کان أحد الزوجین مسلما فالولد علٰی دینہ۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۴۶، باب نکاح أھل الشرک)۔
- (۵) وفیہ (أی فی الظھیریۃ) ان الرضاء بکفر غیرہ أیضًا کفر۔ (شرح فقہ أکبر ص:۲۱۸، طبع مجبتائی، دھلی)۔ أیضًا: والرضا بالکفر کفر۔ (فتاویٰ قاضی خان علٰی ھامش الھندیۃ ج:۳ ص:۵۷۳)۔
- (۶) ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح۔ (درمختار ج:۴ ص:۲۴۷، باب المرتد)۔

