عقیدےکےلحاظسےجنسےنکاحجائزنہیں
اہلِکتابعورتسےنکاحجائزہے،تواہلِکتابمردسےنکاحکیوںجائزنہیں؟
سوال:۔
ایک مسلمان مرد کتابیہ عورت سے تو شادی کرسکتا ہے، لیکن کیا ایک مسلمان عورت بھی اہلِ کتاب مرد سے اسی طرح شادی کرلینے کی مکلف ہے؟ اگر نہیں تو اس کی کیا وجوہات ہیں؟ کیا نکاح کے بعد وہ اپنے اپنے مذہب پر قائم رہ سکتے ہیں؟ اس صورت میں ان کی اولاد کا مذہب کیا ہوگا؟ اگر اولاد مسلمان بن کر رہنا گوارا نہ کرے تو اس کا گناہ کس پر ہوگا؟ کیا وہ میاں بیوی کی حیثیت سے اپنے اپنے مذہب پر قائم رہ کر زندگی گزار سکتے ہیں؟
جواب:۔
مسلمان مرد کا اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح جائز ہے،(۱) لیکن مسلمان عورت کا نکاح کسی غیرمسلم مرد سے جائز نہیں، خواہ وہ اہلِ کتاب میں سے ہو۔(۲) اس کی وجوہات بڑی معقول ہیں، ضرورت ہو تو اس کی تفصیل کسی عالم سے زبانی سمجھ لیجئے۔
- (۱) وحل تزوج الکتابیۃ، لقولہ تعالٰی: ﵟ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ ﵞ، أی العفاف من الزنا، بیانًا للندب، لَا أن العفۃ فیھن شرط۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۱۰، فصل فی المحرمات، طبع دار المعرفۃ، بیروت، أیضًا: فتح القدیر ج:۲ ص:۳۷۲، طبع دار صادر)۔ ویجوز للمسلم نکاح الکتابیۃ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۱)۔
- (۲) ولَا یجوز تزوج المسلمۃ من مشرک ولَا کتابی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۱)۔ ومنھا إسلام الرجل إذا کانت المرأۃ مسلمۃ فلا یجوز إنکاح المؤمنۃ الکافر لقولہ تعالٰی: ﵟ وَلَا تُنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤۡمِنُواْۚ ﵞ، ولأن فی إنکاح المؤمنۃ الکافر خوف وقوع المؤمنۃ فی الکفر۔۔۔ والنص وإن ورد فی المشرکین لٰـکن العلۃ وھی الدعاء إلی النار یعم الکفرۃ فیتعمم الحکم بعموم العلۃ فلا یجوز إنکاح المسلمۃ الکتابی ۔۔۔إلخ۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۷۱، ۲۷۲، کتاب النکاح، طبع ایچ ایم سعید)۔

