بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدے‌کے‌لحاظ‌سے‌جن‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

کیا‌غیرمسلموں‌کی‌اپنے‌طریقوں‌پر‌کی‌ہوئی‌شادیاں‌دُرست‌ہیں؟

سوال:۔

مسلمانوں میں مروّجہ طریقہ برائے ادائیگی زوجیت کے لئے اوّلین شرط ’’نکاح‘‘ ہے، اب غیرمسلموں کی شادی اور ان کے اِیجاب وقبول کا طریقہ غیراِسلامی ہے، اس ناطے کیا وہ تمام غیرمسلم صریحاً حرام کاری اور بدکاری کے مرتکب نہ ہوئے؟ جبکہ وہ غیرمسلم ہونے کا عذاب تو بھگتیں گے، لیکن کیا انہیں اس کے علاوہ اپنی زندگی میں ہونے والی بے قاعدگیوں کی سزا ملے گی؟

جواب:۔

ہر قوم میں شادی بیاہ کا خاص طریقہ رائج ہے، ایک غیرمسلم جوڑا جس نے اپنے مذہب کے مطابق نکاح کیا ہو، جب تک مسلمان نہیں ہوجاتے، تب تک تو ظاہر ہے کہ ہم ان پر اِسلامی قانون لاگو کرنے کے مجاز نہیں، اور نہ ان کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرسکتے ہیں، بلکہ ’’وہ جانیں اور ان کا دِین‘‘ کے اُصول پر عمل کیا جائے گا۔

اور اگر ایسا غیرمسلم جوڑا مسلمان ہوجائے تو یہ دیکھا جائے کہ ان کا نکاح ایسا تو نہیں جو شرعی قانون کے لحاظ سے ممنوع ہے؟

مثلاً کسی نے اپنی محرَم سے نکاح کر رکھا تھا، تو اِسلام لانے کے بعد ان کے درمیان علیحدگی کرادی جائے گی،(۱) اور اگر ایسا نکاح شرعاً ممنوع نہیں تو اس نکاح کو برقرار رکھا جائے گا۔(۲)

رہا یہ کہ غیرمسلم اِسلامی دستور کے خلاف نکاح کرتے ہیں، ان کو ان اُمور پر بھی عذاب ہوگا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ساری بے قاعدگیاں کفر کا شعبہ ہیں، اور کفر پر ہونے والے عذاب میں یہ بے قاعدگیاں اَزخود شامل ہوں گی، واللہ اعلم!

  1. (۱) ولو کانا۔۔۔ محرمین أو أسلم أحد المحرمین أو ترافعا إلینا وھما علی الکفر فرّق۔ (درمختار ج:۳ ص:۱۸۶، باب نکاح الکافر، طبع ایچ ایم سعید کراچی)
  2. (۲) کل نکاح صحیح بین المسلمین فھو صحیح بین أھل الکفر۔ (تنویر الأبصار، باب نکاح الکافر، ص:۱۸۴)۔