بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدے‌کے‌لحاظ‌سے‌جن‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

اگر‌اولاد‌کے‌غیرمسلم‌ہونے‌کا‌ڈَر‌ہو‌تو‌اہلِ‌کتاب‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

سوال:۔

یہاں جرمنی میں اکثر مسلمان لڑکے غیرمسلم لڑکیوں کے ساتھ شادی کرکے کہتے ہیں کہ ہم نے پیپر میرج کر رکھی ہے۔ قرآن و سنت کی رُو سے بتائیں کہ ان کا یہ فعل جائز ہے؟

جواب:۔

اگر وہ لڑکیاں اہلِ کتاب ہیں تو ان سے نکاح جائز ہے،(۱) بشرطیکہ یہ اندیشہ نہ ہو کہ ان کی غیرمسلم بیویوں کی وجہ سے اولاد غیرمسلم بن جائے گی، اگر ایسا اندیشہ ہو تو ہرگز نکاح نہ کیا جائے، ورنہ اپنی اولاد کو کفر کی گود میں دھکیل کر گنہگار ہوں گے۔(۲)

  1. (۱) قال تعالٰی: ﵟ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ ﵞ المائدة ٥۔ (وصح نکاح کتابیۃ) وإن کرہ تنزیھًا (مؤمنۃ بنبی) مرسل (مقرۃ بکتاب) منزل، وإن اعتقدوا المسیح إلٰھًا۔ وفی الشامیۃ: (قولہ مقرۃ بکتاب) فی النھر عن الزیلعی، واعلم ان من إعتقد دینًا سماویًا ولہ کتاب منزل کصحف إبراھیم وشیث وزبور داوٗد فھو من أھل الکتاب، فتجوز منکاحتھم وأکل ذبائحھم۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۳ ص:۴۵، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، طبع سعید، أیضًا: عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۱، کتاب النکاح، القسم السابع، البحر الرائق ج:۳ ص:۱۱۰، فصل فی المحرمات)۔
  2. (۲) والأولٰی أن لَا یتزوج کتابیۃ۔۔۔ وفی المحیط: یکرہ تزوج الکابیۃ الحربیۃ، لأن الْإنسان لَا یأمن أن یکون بینھما ولد، فینشأ علٰی طبائع أھل الحرب، ویتخلق بأخلاقھم، فلا یستطیع المسلم قلعہ عن تلک العادۃ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۱۱، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، طبع دار المعرفۃ، بیروت، أیضًا: أحکام القرآن للجصاص ج:۲ ص:۲۳۶، باب تزوج الکتابیات، طبع سھیل اکیڈمی)۔