عقیدےکےلحاظسےجنسےنکاحجائزنہیں
ایکشبہکاجواب
سوال:۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح ابو العاص بن ابو الربیع سے ہوا جو کافر تھا، حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح عتیبہ سے ہوا، جو ایک کافر تھا، حضرت رُقیہ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح عتبہ بن ابولہب سے ہوا جو کافر تھا، ہر سہ متذکرہ دختران رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح پہلے کافروں سے کیوں ہوا؟
جواب:۔
اس وقت تک غیرمسلموں سے نکاح کی ممانعت نہیں آئی تھی، بعد میں اس کی ممانعت ہوگئی۔(۱) عتبہ نے اپنے باپ ابولہب کے کہنے پر حضرت رُقیہ رضی اللہ عنہا کو، اور عتیبہ نے حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تھی۔ چنانچہ بعد میں ان دونوں کا عقد یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوا،(۲) اور حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ جنگِ بدر کے بعد اسلام لے آئے تھے۔(۳)
- (۱)۔۔۔ وجدنا نکاح المشرکات قد کان مباحًا فی أوّل الْإسلام إلٰی أن نزل تحریمھن۔ (أحکام القرآن للجصّاص ج:۱ ص:۳۳۵، باب نکاح المشرکات، طبع سھیل اکیڈمی، لَاھور پاکستان)۔
- (۲) وتزوج زینب أبو العاص بن الربیع۔۔۔ وأما رقیۃ فکان قد تزوجھا أوّلًا ابن عمہ عتبۃ بن أبی لھب، کما تزوج أختھا أخوہ عتیبۃ بن أبی لھب، ثم طلقاھما قبل الدخول بھما بغضۃ فی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حین أنزل اللہ (تبت یدا أبی لھب الآیۃ) وبعد فتزوج عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رقیۃ وھاجرت معہ إلٰی أرض الحبشۃ۔۔۔ ولما أن جائہ البشیر بالنصر إلی المدینۃ وھو زید بن حارثۃ وجدھم قد ساوَوْا علٰی قبرھا التراب، وکان عثمان قد أقام علیھا بمرضھا بأمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضرب لہ بسھمہ وأجرہ، ولما رجع زوَّجہ بأختھا أُمّ کلثوم أیضًا، ولھٰذا کان یقال لہ ذُوالنّورین، ثم ماتت عندہ فی شعبان سنۃ تسع ۔۔۔إلخ۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۳ ص:۳۲۱، فصل فی ذکر أولَاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، طبع قدیمی کتب خانہ)۔
- (۳) وذکر ابن إسحاق أن أبا العاص أقام بمکۃ علٰی کفرہ واستمرت زینب عند أبیھا بالمدینۃ حتّٰی إذا کان قبیل الفتح خرج أبو العاص فی تجارۃ لقریش، فلما قفل من الشام لقیتہ سریۃ فأخذوا ما معہ وأعجزھم ھربًا وجاء تحت اللیل إلٰی زوجتہ زینب فاستجار بہا فاجارتہ۔۔۔ قال (أی أبو العاص) فانی أشھد أن لَا إلٰہ إلّا اللہ، وأن محمدًا عبدہ ورسولہ، واللہ ما معنی عن الْإسلام عندہ ألَا تخوف ان تظنوا أنی إنما أردت أن آکل أموالکم فلما أداھا اللہ إلیکم وفرغت منھا أسلمت ثم خرج حتّٰی قدم علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ عن ابن عباس قال: رد علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زینب علی النکاح الأول ولم یحدث شیئًا۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۳ ص:۳۳۲، فصل فی فضل من شھد بدرًا من المسلمین، طبع دار الفکر، بیروت)۔

