عقیدےکےلحاظسےجنسےنکاحجائزنہیں
قادیانییادُوسرےغیرمسلموںسےشادیاںکرنےاوراسمیںشرکتکاشرعیحکم
سوال:۔
ایک مسلم خاندان کے والدین اور خاندان کے تمام افراد جو دولت کے نشے میں اپنے آپ کو ایڈوانس ثابت کرنے کے جوش میں مبتلا ہیں، اپنی رضامندی سے ایک لڑکی کی شادی ایک قادیانی اور دُوسرے بھائی نے اپنی لڑکی کی شادی دُوسرے غیرمسلم سے رچائی۔ اس خاندان کے افراد اور دوستوں نے یہ جانتے ہوئے کہ یہ دونوں لڑکے غیرمسلم ہیں، بڑے شوق سے شرکت کی۔ آپ بتائیں کہ لڑکیوں کے والدین، رشتہ دار اور دوست جنہوں نے اللہ کے اَحکام کا علم رکھتے ہوئے اس کافرانہ اقدام کی ہمت افزائی کی، کافر نہیں ہوگئے اور ان کے نکاح نہیں ٹوٹ گئے؟
سوال:۔
ان دو لڑکیوں کے بطن سے جن کے شوہر غیرمسلم ہیں دو دو بچے جنم لئے، کیا یہ بچے حرامی نہیں ہوئے؟
سوال:۔
جو لوگ اب بھی اس خاندان کی ہر تقریب میں ان کے کافرانہ اقدام سے واقفیت رکھتے ہوئے مسلسل شرکت کرتے ہیں، کافر نہیں ہوگئے؟ اور ان سب کا حشر کے دِن کیا حشر ہوگا؟
سوال:۔
میں اس خاندان والوں میں سے تھا، اس کافرانہ اقدام کے بعد ہی میرے گھر والوں نے رشتہ منقطع کرلیا، اور ان کے محلے والوں نے بھی ان خاندان والوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا، چونکہ اس خاندان کے افراد عریانیت اور بے حیائی کو جدید ہونے کی علامت سمجھتے ہیں، اس لئے انہوں نے کفر کو اِسلام پر ترجیح دی۔ آپ بتائیں جو مسلمان اس خاندان سے رابطہ یا دوستی برقرار رکھے، وہ اسلام سے خارج نہیں ہوجائے گا؟
جواب:۔
یہ نکاح قطعاً منعقد نہیں ہوئے،(۱) جنہوں نے اس نکاح کو حلال سمجھا، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہوگئے،(۲) انہیں تجدیدِ اِیمان اور تجدیدِ نکاح کرنا ہوگا۔(۳)
جواب:۔
بچے حرامی ہیں، نسب باپ سے ثابت نہ ہوگا۔(۴)
جواب:۔
بدترین لوگ ہیں، اللہ ورسول کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔(۵)
جواب:۔
ان سے ہر طرح کے تعلقات منقطع کرنا لازم ہے، مسلمانوں کو ان سے بائیکاٹ کرنا چاہئے۔(۶)
(۶) قال تعالٰی: ﵟ لَّا تَجِدُ قَوۡمٗا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَآءَهُمۡ ﵞ المجادلة٢٢۔
- (۱) ولَا یصلح أن ینکح مرتد أو مرتدۃ أحد من الناس مطلقًا۔ (قولہ مطلقًا) أی مسلمًا أو کافرًا أو مرتدًّا۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۳ ص:۲۰۰ قبیل باب القسم، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۲) والأصل: ان من إعتقد الحرام حلالًا فإن کان حرامًا لغیرہ کمال الغیر لَا یکفر، وإن کان لعینہ، فإں کان دلیلہ قطعیًا کفر۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۲۳، باب المرتد، مطلب فی منکر الْإجماع)۔
- (۳) ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح۔۔۔ وما فیہ إختلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح ۔۔۔إلخ۔ (درمختار، کتاب الجھاد، باب المرتد ج:۴ ص:۲۴۷)۔
- (۴) وفی مجمع الفتاویٰ: نکح کافر مسلمۃ فولدت منہ لَا یثبت النسب منہ ولَا تجب العدۃ لأنہ نکاح باطل۔ وفی الشامیۃ: أی فالوطء فیہ زنا لَا یثبت بہ النسب ۔۔۔إلخ۔ (رد المحتار مع الدر المختار، قبیل باب الحضانۃ ج:۳ ص:۵۵۵)۔
- (۶) لأنہ إذا رأی منکرًا معلومًا من الدین بالضرورۃ فلم ینکرہ ولم یکرہ ورضی بہ واستحسنہ کان کافرًا۔ (مرقاۃ ج:۳ ص:۵ باب الأمر بالمعروف، طبع أصح المطابع، بمبئی)۔

