بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدے‌کے‌لحاظ‌سے‌جن‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

جس‌لڑکی‌پر‌قادیانی‌ہونے‌کا‌شبہ‌ہو‌اُس‌سے‌نکاح‌کرنا

سوال:۔

زید ایک ایسی لڑکی سے شادی کرنے کا خواہش مند ہے جس کے مسلمان ہونے پر شبہ ہے، ان کے آباء واجداد کے کچھ لوگ قادیانی فرقے سے تعلق رکھنے پر شبہ ہے۔ اسلامی رُو سے اس شبہ کی موجودگی میں اس شادی کی کیا حیثیت ہوگی؟ نیز اگر یہ صحیح نہیں ہے تو اس کا گناہ ووبال کس کے ذمے ہوگا؟ اس لڑکے پر یا اس کے والدین پر؟

جواب:۔

اگر لڑکی واقعتا قادیانی ہے تو یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا،(۱) لڑکا اور والدین دونوں گناہگار ہوں گے۔ اور اگر زید مسلمان کئے بغیر شادی کرتا ہے اور یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ شادی جائز ہے، تو وہ دائرۂ اِسلام سے نکل گیا۔(۲) ایسے شخص اور خاندان سے دیگر لوگوں کو تعلقات رکھنا جائز نہیں۔(۳)

  1. (۱) ولَا یصلح أن ینکح مرتد أو مرتدۃ أحدًا من الناس مطلقًا أی مسلمًا أو کافرًا أو مرتدًّا۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۳ ص:۲۰۰ قبیل باب القسم، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
  2. (۲) لأنہ إذا رأی منکرًا معلومًا من الدین بالضرورۃ فلم ینکرہ ولم یکرھہ ورضٰی بہ واستحسنہ کان کافرًا۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکٰوۃ المصابیح ج:۵ ص:۳، باب الأمر بالمعروف، طبع أصح المطابع، بمبئی)۔
  3. (۳) قال تعالٰی:ﵟ لَّا تَجِدُ قَوۡمٗا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَآءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَٰنَهُمۡ أَوۡ عَشِيرَتَهُمۡۚ ﵞ المجادلة ٢٢۔وھٰذا یدل علٰی أن علینا ترک مجالسۃ الملحدین وسائر الکفار عند إظھارھم الکفر والشرک وما لَا یجوز علی اللہ إذا لم یمکنا انکارہ۔ (أحکام القرآن ج:۳ ص:۲، طبع سھیل اکیڈمی لَاھور)۔