عقیدےکےلحاظسےجنسےنکاحجائزنہیں
قادیانیلڑکیسےشادیکرانےوالےوالدیناورشادیمیںشرکتکرنےوالےحضراتکاشرعیحکم
سوال:۔
کئی سال قبل ایک شادی میں شرکت کی تھی، کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ ماںباپ اور چند اَعزّا کی ملی بھگت سے وہ شادی غیرمسلم یعنی قادیانیوں میں کی گئی، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس شادی میں جو لوگ نادانستہ شریک ہوئے، ان کی اب کیا ذمہ داری ہے؟
ماںباپ اور وہ لوگ جنہوں نے دانستہ ایسا کیا، ان کے ساتھ میرا کیا رویہ ہونا چاہئے؟
اس لڑکی سے جو اولاد پیدا ہو رہی ہے، اس کو کیا کہا جائے؟
جواب:۔
جن لوگوں کو لڑکی کے غیرمسلم ہونے کا علم نہیں تھا، وہ تو گنہگار نہیں ہوئے، اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔
اور جن لوگوں کو علم تھا کہ لڑکی غیرمسلم ہے، اور ان کو قادیانیوں کے عقائد کا علم نہیں تھا، اس لئے ان کو مسلمان سمجھ کر شریک ہوئے، وہ گناہگار ہیں، ان کو توبہ کرنی چاہئے۔(۱)
اور جن لوگوں کو لڑکی کے قادیانی ہونے کا علم تھا، اور ان کے عقائد کا بھی علم تھا، اور وہ قادیانیوں کو غیرمسلم سمجھتے تھے، مگر یہ مسئلہ معلوم نہیں تھا کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کا آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا، وہ بھی گناہگار ہیں، ان کو توبہ کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہئے۔(۲)
اور جن لوگوں کو لڑکی کے قادیانی ہونے کا بھی علم تھا، اور ان کے عقائد بھی معلوم تھے، اس کے باوجود انہوں نے قادیانیوں کو مسلمان سمجھا اور مسلمان سمجھ کر ہی اس شادی میں شرکت کی، وہ اِیمان سے خارج ہوگئے،(۳) ان پر تجدیدِ اِیمان اور توبہ کے بعد تجدیدِ نکاح لازم ہے۔(۴)
قادیانیوں کا حکم مرتد کا ہے، مرتد مرد ہو، یا عورت، اس سے نکاح نہیں ہوتا، اس لئے اس قادیانی لڑکی سے جو اولاد ہوگی وہ ولدالحرام شمار ہوگی۔
- (۱) قال تعالٰی:ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ تُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ تَوۡبَةٗ نَّصُوحًا ﵞ التحريم ٨۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ﷲ أشد فرحًا بتوبۃ أحدکم من أحدکم بضالتہ إذا وجدھا۔ قال النووی فی شرح مسلم تحت ھٰذا الحدیث: واتفقوا علٰی أن التوبۃ من جمیع المعاصی واجبۃ۔ (صحیح مسلم مع شرح النووی ج:۳ ص:۳۵۴، طبع قدیمی)۔
- (۲) أیضًا۔
- (۳) تنبیہ: وفی البحر، والأصل أن من اعتقد الحرام حلالًا فإن کان حرامًا لغیرہ کمال الغیر لَا یکفر، وإن کان لعینہ، فإن کان دلیلہ قطعیًا کفر، وإلّا فلا۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۲۳، باب المرتد، مطلب فی منکر الْإجماع)۔
- (۴) ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح۔۔۔ وما فیہ اختلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح ۔۔۔إلخ۔ (درمختار ج:۴ ص:۲۴۷، کتاب الجھاد، باب المرتد)۔

