عقیدےکےلحاظسےجنسےنکاحجائزنہیں
قادیانیلڑکیسےشادیاوراُنسےمیلجولرکھنا
سوال:۔
میرے شوہر کے سگے چچازاد نے قادیانی لڑکی سے شادی کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے لڑکی کو مسلمان کرکے نکاح کیا ہے۔ اس شادی میں ان کے والدین کی رضامندی شامل نہیں تھی، اس لئے انہوں نے خود ہی یہ شادی کی۔ نکاح کی تقریب میں کوئی رشتہ دار شامل نہیں تھا، جبکہ ولیمے میں میرے سسر (یعنی تایا) نے شرکت کی تھی۔
شادی کے سات آٹھ ماہ بعد والدین سے صلح ہوگئی اور یہ اپنے والدین کے گھر آگئے، لڑکی کا اپنے قادیانی والدین کے گھر آنا جانا ہے، بلکہ اب ان کے دو بیٹے ہیں اور بچوں کی ولادت میکے میں ہی ہوئی ہے، اور وہ وہاں سے سوا مہینہ گزار کر آئی ہیں۔ اب آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ:
۱:۔آیا یہ نکاح دُرست ہے؟ (جبکہ لڑکی کا قادیانی میکے میں آنا جانا ہے)۔
۲:۔ اگر نہیں تو جن لوگوں نے شادی میں شرکت کی تھی ان کے لئے کیا حکم ہے؟ کیا وہ گناہگار ہیں جبکہ وہ لڑکے کے والدین کی درخواست پر شامل ہوئے تھے کہ ان کا کہنا تھا کہ کہیں ہمارا بیٹا بالکل ہی خاندان سے الگ نہ ہوجائے (جبکہ لڑکے کے والدین خود شریک نہیں تھے)۔
۳:۔ اب جبکہ لڑکا اپنے والدین کے گھر بمعہ فیملی کے مقیم ہے تو اس کے والدین کے گھر آنا جانا یا ان سے میل ملاپ جائز ہے؟
۴:۔ اگر لڑکا الگ رہتا ہے، لیکن والدین سے ملتا ہے تو ہم لوگوں کا اس کے والدین سے میل جول جائز ہے یا ناجائز؟
۵:۔ کیا مسلمان اپنے قادیانی والدین، بہن بھائی وغیرہ سے اسی طرح میل جول رکھ سکتا ہے؟ کیا یہ دُرست ہے یا اس سے اِیمان متأثر ہوتا ہے؟ آیا جائز ہے یا ناجائز؟ جیسا کہ اس لڑکی نے رکھا ہوا ہے۔
جواب:۔
۱:۔اگر یہ لڑکی بدستور قادیانی ہے تو کسی مسلمان سے کسی قادیانی کا نکاح جائز نہیں۔(۱) اور اگر یہ لڑکی مسلمان ہوگئی ہے تو اس کا اپنے قادیانی والدین کے ساتھ تعلق رکھنا جائز نہیں۔(۲)
۲:۔ اگر لڑکی مسلمان ہوگئی تھی تو نکاح میں شرکت جائز ہے، ورنہ تمام شریک ہونے والے گناہگار ہوں گے اور قیامت کے دن اللہ کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔(۳)
۳:۔ اس مسئلے کا مدار بھی لڑکی کے مسلمان ہونے پر ہے، اگر لڑکی واقعتاً مسلمان ہے تو ان لوگوں کے گھر میں آنا جانا صحیح ہے، ورنہ ناجائز ہے۔
۴:۔ اس کا جواب بھی اُوپر آچکا ہے۔
۵:۔ کسی سچے مسلمان کا جو اللہ اور اللہ کے رسول پر اِیمان رکھتا ہو، قادیانی مرتدوں کے ساتھ تعلقات رکھنا حرام ہے۔(۴)
- (۱) ولَا یصلح أن ینکح مرتد أو مرتدۃ أحد من الناس مطلقًا۔ (قولہ مطلقًا) أی مسلمًا أو کافرًا أو مرتدًّا، وھو تأکید لما فھم من النکرۃ فی النفی۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۳ ص:۲۰۰ قبیل باب القسم، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۲) قال تعالٰی: ﵟ لَّا تَجِدُ قَوۡمٗا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَآءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَٰنَهُمۡ أَوۡ عَشِيرَتَهُمۡۚ ﵞ المجادلة ٢٢
- (۳) وھٰذا یدل علٰی ان علینا ترک مجالسۃ الملحدین وسائر الکفار عند إظھارھم الکفر والشرک وما لَا یجوز علی اللہ تعالٰی إذا لم یمکنّا انکارہ۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۲، طبع سھیل اکیڈمی)۔
- (۴) وھٰذا یدل علٰی ان علینا ترک مجالسۃ الملحدین وسائر الکفار عند إظھارھم الکفر والشرک وما لَا یجوز علی اللہ تعالٰی إذا لم یمکنّا انکارہ۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۲، طبع سھیل اکیڈمی)۔

