بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدے‌کے‌لحاظ‌سے‌جن‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

مسلمان‌کا‌قادیانی‌لڑکی‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں،‌شرکاء‌توبہ‌کریں

سوال:۔

ہمارے علاقے میں ایک زمین دار کی قادیانی کے گھر شادی ہوئی، مگر دُولہا مسلمان ہونے کا دعویدار ہے، ان کا شرعاً نکاح ہوا ہے یا نہیں؟ اور دعوتِ ولیمہ میں شریک لوگوں کا نکاح برقرار ہے یا نہیں یا گنہگار ہیں؟ آئندہ شریک ہوں یا نہیں؟

جواب:۔

قادیانیوں کا حکم مرتد کا ہے،(۱) ان کی تقریبات میں شریک ہونا اور اپنی تقریبات میں ان کو شریک کرنا جائز نہیں۔(۲) جو لوگ اس معاملے میں چشم پوشی کرتے ہیں، قیامت کے دن خدائے ذوالجلال کی بارگاہ میں جواب دہ ہوں گے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی اور عتاب کے مورد ہوں گے۔ قادیانیوں سے رشتہ ناتا جائز نہیں،(۳) اگر وہ لڑکی مسلمان ہوگئی ہے تو نکاح صحیح ہے، اور اگر مسلمان نہیں بلکہ قادیانی ہے تو نکاح باطل ہے، جس طرح کسی سکھ اور ہندو سے نکاح جائز نہیں، اسی طرح کسی قادیانی سے بھی جائز نہیں۔ اس شخص کو لازم ہے کہ قادیانی عورت کو الگ کردے، جو لوگ ان کے نکاح میں شریک ہوئے ہیں وہ گنہگار ہیں ان کو توبہ کرنی چاہئے، آئندہ ہرگز ایسا نہ کریں۔

  1. (۱) إذا لم یعرف أن محمدًا آخر الأنبیاء فلیس بمسلم لأنہ من الضروریات۔ (الأشباہ والنظائر ج:۲ ص:۹۱ کتاب السیر، باب الردۃ، طبع إدارۃ القرآن)۔ أیضًا: وإن أنکر بعض ما علم من الدین ضرورۃ کفر بھا۔ (شامی ج:۱ ص:۵۶۱)۔
  2. (۲) وھٰذا یدل علٰی ان علینا ترک مجالسۃ الملحدین وسائر الکفار عند إظھارھم الکفر والشرک وما لَا یجوز علی اللہ تعالٰی إذا لم یمکنّا انکارہ۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۲، طبع سھیل اکیڈمی لَاھور)۔
  3. (۳) فلا یتزوّج المرتد مسلمۃ ولَا کتابیۃ ولَا مرتدۃ ولَا یتزوّج المرتدۃ مسلم ولَا کافر ولَا مرتد۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۲۵۹، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔