بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدے‌کے‌لحاظ‌سے‌جن‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

قادیانی‌کی‌بیوی‌کا‌مسلمان‌رہنے‌کا‌دعویٰ‌غلط‌ہے

سوال:۔

ہمارے علاقے میں ایک خاتون رہتی ہیں، جو بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم دیتی ہیں، نیز محلہ کی مستورات تعویذ گنڈے اور دِینی مسائل کے بارے میں موصوفہ سے رُجوع کرتی ہیں۔ لیکن باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوہر قادیانی ہے، موصوفہ سے دریافت کیا گیا تو اس نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر میرا شوہر قادیانی ہے تو کیا ہوا، میں تو مسلمان ہوں، میرا عقیدہ میرے ساتھ اور اس کا اس کے ساتھ، اس کے عقائد سے میری صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟ آپ سے دریافت کرنا مطلوب ہے کہ:

۱:۔ کسی مسلمان مرد یا عورت کا کسی قادیانی مذہب کے حامل افراد سے زَن و شوہر کے تعلقات قائم رکھنا کیسا ہے؟

۲:۔ اہلِ محلہ کے شرعی معاملات میں ان خاتون سے رُجوع کرنا، نیز معاشرتی تعلقات قائم رکھنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب:۔

کسی مسلمان خاتون کا کسی غیرمسلم سے نکاح نہیں ہوسکتا،(۱) نہ قادیانی سے، نہ کسی دُوسرے غیرمسلم سے، اور نہ کوئی مسلمان خاتون کسی قادیانی کے گھر رہ سکتی ہے، نہ اس سے میاں بیوی کا تعلق رکھ سکتی ہے۔ یہ خاتون جس کا سوال میں ذکر کیا گیا، اگر اس کو یہ مسئلہ معلوم نہیں تو اس کو مسئلہ بتادیا جائے، مسئلہ معلوم ہونے کے بعد اسے چاہئے کہ وہ قادیانی مرتد سے فوراً قطع تعلق کرلے، اور اگر وہ مسئلہ معلوم ہونے کے بعد بھی بدستور قادیانی کے ساتھ رہتی ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ درحقیقت خود بھی قادیانی ہے، محض بھولے بھالے مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتی ہے، محلے کے مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے کہ اس سے قطع تعلق کریں اور اس سے بھی وہی سلوک کریں جو قادیانی مرتدوں سے کیا جاتا ہے۔ اس سے بچوں کو قرآنِ کریم پڑھوانا، تعویذ گنڈے لینا، دِینی مسائل میں اس سے رُجوع کرنا اور اس سے معاشرتی تعلقات رکھنا حرام ہے۔(۲)

  1. (۱) قال تعالٰی: ﵟ وَلَا تُنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤۡمِنُواْۚ ﵞ(البقرۃ:۲۲۱)۔ أیضًا: ومنھا إسلام الرجل إذا کانت المرأۃ مسلمۃ فلا یجوز إنکاح المؤمنۃ الکافر، لقولہ تعالٰی: ﵟ وَلَا تُنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤۡمِنُواْۚ ﵞ، ولأن فی إنکاح المؤمنۃ الکافر خوف وقوع المؤمنۃ فی الکفر۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۷۱، کتاب النکاح، فصل فی عدم نکاح الکافر المسلمۃ، طبع ایچ ایم سعید)۔ أیضًا: لَا یجوز للمرتد أن یتزوّج مرتدۃ ولَا مسلمۃ ولَا کافرۃ أصلیۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۲)۔
  2. (۲) قال تعالٰی:ﵟ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ٦٨ ﵞ الأنعام ٦٨ وقال تعالٰی: ﵟ لَّا تَجِدُ قَوۡمٗا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَآءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَٰنَهُمۡ أَوۡ عَشِيرَتَهُمۡۚ ﵞ المجادلة ٢٢۔