عقیدےکےلحاظسےجنسےنکاحجائزنہیں
قادیانیلڑکےسےمسلمانلڑکیکانکاحجائزنہیں
سوال:۔
مسلمان لڑکی (جانتے ہوئے بھی) اگر قادیانی لڑکے کے ساتھ عشق میں مبتلا ہوکر اس سے شادی کی خواہش ظاہر کرے، اس صورت میں لڑکی اپنے مذہب پر رہے اور لڑکا اپنے مذہب پر، نکاح جائز ہوگا یا نہیں؟ اگر لڑکی شادی کرلیتی ہے تو آخرت میں کن لوگوں میں شامل ہوگی؟
سوال:۔
شادی کے لئے لڑکی کی معاونت و حمایت کرنے والے کے لئے (جبکہ قادیانی لڑکا اَز خود شادی کرنے سے کئی بار اِنکار کرچکا ہو) اور اسے عاشق لڑکی کی سہیلی وغیرہ نے کسی طور پر رضامند کیا ہو، جس میں لڑکی کے مذہب تبدیل کرنے کے اِمکانات کو رَدّ نہیں کیا جاسکتا، اور خود لڑکی کے لئے شریعت میں سزا کی حد کیا ہے؟ کیا لڑکی جبکہ مسلم گھرانے کی ہے اور غیرمسلم لڑکے سے شادی کا اِرادہ کرنے کے شرعی جرم میں اور معاونت کرنے والے بھی واجب القتل نہیں ہیں؟
سوال:۔
بات چیت طے ہونے یعنی منگنی وغیرہ ہونے پر قادیانی لڑکے یا مسلم لڑکی کی طرف سے یا دونوں کی طرف سے مشترکہ طور پر تقسیم کی گئی مٹھائی کھانا اور انہیں مبارک باد دینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر مٹھائی کھاسکتے ہیں اور مبارک باد دے سکتے ہیں تو کیوں؟ جبکہ نکاح ہی جائز نہ ہوا اور یہ ایک ناجائز فعل کی ابتدا کے شگون میں تقسیم کی گئی ہو۔
سوال:۔
اس سلسلے کی مٹھائی کو جائز قرار دینے کے لئے میرے ایک دوست نے دلیل دی کہ ہندوستان میں لوگ (مسلمان) اپنے ہندو پڑوسی کے یہاں شادی وغیرہ کی تقریبات میں شرکت کرتے تھے اور کھاتے تھے۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ وہ ہندوؤں کی آپس کی شادی ہوتی تھی، ایک ہی مذہب کا معاملہ تھا۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان لڑکی بھی اب مرتد ہوگئی یا ہوجائے گی، لہٰذا یہ ایک مرتد اور زِندیق میں اضافے پر یا لڑکی کے مذہب تبدیل کرنے، اسلام سے پھرجانے کی خوشی میں مٹھائی ہوگی۔ نیز یہ بھی بتائیں کہ جنھوں نے مٹھائی کھائی اور اس فعل پر لڑکی لڑکے کو (منگنی کے بندھن میں بندھنے پر) مبارک باد دی، اب وہ کیا کریں؟ اگر انہوں نے اَن جانے میں ایسا کیا، اگر انہوں نے یہ جانتے ہوئے کہ یہ ناجائز فعل ہے ایسا کیا، اب وہ کیا کریں؟
جواب:۔
قادیانی مرتد ہیں،(۱) ان سے نکاح نہیں ہوگا۔(۲) لڑکی ساری عمر زِنا کے گناہ میں مبتلا رہے گی جیسے کسی سکھ کے عشق میں مبتلا ہوکر اس سے شادی کرلے۔
جواب:۔
غیرمسلم کے ساتھ شادی کو جائز سمجھنا کفر ہے،(۳) لڑکی کی معاونت و حمایت کرنے والوں نے اگر اس شادی کو جائز سمجھا تو ان کو اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہئے۔(۴)
جواب:۔
مٹھائی کھانا اور مبارک باد دینا بھی رضا کی علامت ہے، ایسے لوگوں کو بھی اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہئے۔(۵)
جواب:۔
غیرمسلموں کی آپس کی شادی میں مبارک باد دینے کا تو معمول رہا ہے، لیکن کسی مسلمان لڑکی کا عقد کسی غیرمسلم سے کردیا جائے یا ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ کسی مسلم لڑکی کو مرتد کرکے غیرمسلم سے اس کی شادی کردی جائے تو اس صورت میں کسی مسلمان کو کبھی مبارک باد پیش کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا، بلکہ غیرت مند مسلمانوں میں ایسے خبیث جوڑے کو صفحۂ ہستی سے مٹادینے کی مثالیں موجود ہیں۔ بہرحال جو لوگ اس میں ملوّث ہوئے ہیں ان کو توبہ کرنی چاہئے اور اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہئے۔(۶)
أیضًا: ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح۔ (درمختار، کتاب الجھاد، باب المرتد ج:۴ ص:۲۴۷، طبع سعید)۔
- (۱) إذا لم یعرف أن محمدًا آخر الأنبیاء فلیس بمسلم لأنہ من الضروریات۔ (الأشباہ والنظائر ج:۲ ص:۹۱ کتاب السیر، باب الردۃ، طبع إدارۃ القرآن)۔ أیضًا: وإن أنکر بعض ما علم من الدین ضرورۃ کفر بھا۔ (الدر المختار مع الرد ج:۱ ص:۵۶۱، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۲) فلا یجوز لہ أن یتزوّج إمرأۃ مسلمۃ ولَا مرتدۃ ولَا ذمیۃ ولَا حُرّۃ ولَا مملوکۃ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۳ ص:۵۸۰)۔
- (۳) من اعتقد الحرام حلالًا (إلٰی قولہ) فإن کان دلیلہ قطعیا کفر۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۲۳، کتاب الجھاد، باب المرتد، مطلب فی منکر الْإجماع، طبع سعید)۔
- (۴) ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (درمختار ج:۴ ص:۲۴۷، کتاب الجھاد، باب المرتد، طبع سعید)۔
- (۵) إذا رأی منکرًا معلومًا من الدین بالضرورۃ فلم ینکرہ ولم یکرھہ واستحسنہ ورضی بہ کان کافرًا۔ (مرقاۃ المفاتیح ج:۵ ص:۳، باب الأمر بالمعروف، طبع أصح المطابع، بمبئی)۔ أیضًا: ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح۔ (درمختار، کتاب الجھاد، باب المرتد ج:۴ ص:۲۴۷، طبع سعید)۔
- (۶) إذا رأی منکرًا معلومًا من الدین بالضرورۃ فلم ینکرہ ولم یکرھہ واستحسنہ ورضی بہ کان کافرًا۔ (مرقاۃ المفاتیح ج:۵ ص:۳، باب الأمر بالمعروف، طبع أصح المطابع، بمبئی)۔

