عقیدےکےلحاظسےجنسےنکاحجائزنہیں
قادیانیعورتسےنکاححرامہے،ایسیشادیکیاولادبھیناجائزہوگی
سوال:۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے کے متعلق کہ کیا کسی قادیانی عورت سے نکاح جائز ہے؟
سوال:۔
اولاد کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
سوال:۔
اس شخص سے معاشرتی تعلقات روا رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ جسے علاقے کے لوگ مختلف اداروں میں اپنا نمائندہ بناکر بھیجتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ اس کی بیوی قادیانی ہے۔ لوگوں کا موقف یہ ہے کہ اس کا مذہب اس کے ساتھ ہے، ہمیں اس کے مذہب سے کیا لینا؟ یہ ہمارے مسائل حل کراتا ہے۔ تو اَز روئے شریعت اس کا کیا حکم ہے؟
سوال:۔
اور اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ مرتد تو وہ ہوتا ہے جو دِینِ اسلام سے پھر جائے، یعنی پہلے مسلمان تھا بعد میں نعوذ باللہ کافر ہوگیا، اس لئے جو شخص پہلے مسلمان تھا پھر اس نے مرزائی مذہب اختیار کرلیا وہ تو مرتد ہوا، لیکن جو شخص پیدائشی قادیانی ہو وہ تو مرتد نہیں، کیونکہ اس نے اسلام کو چھوڑ کر قادیانی کفر اختیار نہیں کیا بلکہ وہ ابتداء ہی سے کافر ہے، وہ مرتد کیسے ہوا؟
جواب:۔
قادیانی زِندیق اور مرتد ہیں، اور مرتدہ کا نکاح نہ کسی مسلمان سے ہوسکتا ہے، نہ کسی کافر سے اور نہ کسی مرتد سے۔
’’ہدایہ‘‘ میں ہے:
’’اِعْلَمْ أَنَّ تَصَرُّفَاتِ الْمُرْتَدِّ عَلَى أَقْسَامٍ: نَفَاذٌ بِالِاتِّفَاقِ كَالِاسْتِيلَاءِ وَالطَّلَاقِ۔۔۔ وَبَاطِلٌ بِالِاتِّفَاقِ كَالنِّكَاحِ وَالذَّبِيحَةِ، لِأَنَّهُ يَعْتَمِدُ الْمِلَّةَ وَلَا مِلَّةَ لَهُ۔‘‘ (ہدایہ ج:۲ ص:۵۸۳)
ترجمہ:۔ ’’جاننا چاہئے کہ مرتد کے تصرفات کی چند قسمیں ہیں، ایک قسم بالاتفاق نافذ ہے، جیسے: استیلاء اور طلاق۔ دُوسری قسم بالاتفاق باطل ہے، جیسے: نکاح اور ذبیحہ، کیونکہ یہ موقوف ہے ملت پر اور مرتد کی کوئی ملت نہیں۔‘‘
در مختار میں ہے:
’’وَلَا يَصْلُحُ (أَنْ يَنْكِحَ مُرْتَدٌّ أَوْ مُرْتَدَّةٌ أَحَدًا) مِنَ النَّاسِ مُطْلَقًا، وَفِي الشَّامِيَّةِ (قَوْلُهُ مُطْلَقًا) أَيْ: مُسْلِمًا أَوْ كَافِرًا أَوْ مُرْتَدًّا۔‘‘ (فتاویٰ شامی مع درمختار ج:۳ ص:۲۰۰)
ترجمہ:۔ ’’اور مرتد یا مرتدہ کا نکاح کسی انسان سے مطلقاً صحیح نہیں، یعنی نہ مسلمان سے، نہ کافر سے اور نہ مرتد سے۔‘‘
فتاویٰ عالمگیری میں مرتد کے نکاح کو باطل قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:
’’فَلَا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مُسْلِمَةً وَلَا مُرْتَدَّةً وَلَا ذَمِّيَّةً وَلَا حُرَّةً وَلَا مَمْلُوكَةً۔‘‘ (فتاویٰ عالمگیری ج:۳ ص:۵۸۰)
ترجمہ:۔ ’’پس مرتد کو اجازت نہیں کہ وہ نکاح کرے کسی مسلمان عورت سے، نہ کسی مرتدہ سے، نہ ذِمی عورت سے، نہ آزاد سے اور نہ باندی سے۔‘‘
فقہِ شافعی کی مستند کتاب ’’شرح مہذب‘‘ میں ہے:
’’لَا يَصِحُّ نِكَاحُ الْمُرْتَدِّ وَالْمُرْتَدَّةِ، لِأَنَّ الْقَصْدَ بِالنِّكَاحِ الِاسْتِمْتَاعُ، وَلَمَّا كَانَ دَمُهُمَا مُهْدَرًا وَوَجَبَ قَتْلُهُمَا فَلَا يَتَحَقَّقُ الِاسْتِمْتَاعُ، وَلِأَنَّ الرَّحْمَةَ تَقْتَضِي إِبْطَالَ النِّكَاحِ قَبْلَ الدُّخُولِ، فَلَا يَنْعَقِدُ النِّكَاحُ مَعَهَا۔‘‘ (شرح مہذب ج:۱۶ ص:۲۱۴)
ترجمہ:۔ ’’اور مرتد اور مرتدہ کا نکاح صحیح نہیں، کیونکہ نکاح سے مقصود نکاح کے فوائد کا حصول ہے۔ چونکہ ان کا خون مباح ہے اور ان کا قتل واجب ہے، اس لئے میاں بیوی کا استمتاع متحقق نہیں ہوسکتا، اور اس لئے بھی کہ تقاضائے رحمت یہ ہے کہ اس نکاح کو رُخصتی سے پہلے ہی باطل قرار دیا جائے، اس بنا پر نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔‘‘
فقہِ حنبلی کے مشہور کتاب ’’المغنی مع الشرح الکبیر‘‘ میں ہے:
’’وَالْمُرْتَدَّةُ يَحْرُمُ نِكَاحُهَا عَلَى أَيِّ دِينٍ كَانَتْ، لِأَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ لَهَا حُكْمُ أَهْلِ الدِّينِ الَّذِي انْتَقَلَتْ إِلَيْهِ فِي إِقْرَارِهَا عَلَيْهِ، فَفِي حِلِّهَا أَوْلَى۔‘‘ (المغنی مع الشرح الکبیر ج:۷ ص:۵۰۳)
ترجمہ:۔ ’’اور مرتد عورت سے نکاح حرام ہے خواہ اس نے کوئی سا دِین اختیار کیا ہو، کیونکہ جس دِین کی طرف وہ منتقل ہوئی ہے اس کے لئے اس دِین کے لوگوں کا حکم ثابت نہیں ہوا جس کی وجہ سے وہ اس دِین پر برقرار رکھی جائے، تو اس سے نکاح کے حلال ہونے کا حکم بدرجۂ اَوْلیٰ ثابت نہیں ہوگا۔‘‘
ان حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ قادیانی مرتد کا نکاح صحیح نہیں، بلکہ باطلِ محض ہے۔
جواب:۔
جب اُوپر معلوم ہوا کہ یہ نکاح صحیح نہیں تو ظاہر ہے کہ قادیانی مرتدہ سے پیدا ہونے والی اولاد بھی جائز اولاد نہیں ہوگی، البتہ اُوپر جو صورتیں اس شخص کے مسلمان ہونے کی ذکر کی گئیں، اگر وہ صورتیںہوں تو یہ ’’شبہ کا نکاح‘‘ ہوگا، اور اس کی اولاد جائز ہوگی، اور یہ اولاد مسلمان باپ کے تابع ہو تو مسلمان ہوگی۔
جواب:۔
یہ شخص جب تک قادیانی عورت کو علیحدہ نہ کردے اس وقت تک اس سے تعلقات رکھنا جائز نہیں۔ جو لوگ مذہب سے بے پروا ہوکر محض دُنیوی مفادات کے لئے اس سے تعلقات رکھتے ہیں، وہ سخت گنہگار ہیں، اگر انہیں اپنا ایمان عزیز ہے اور اگر وہ قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے خواستگار ہیں تو ان کو توبہ کرنی چاہئے، اور جب تک یہ شخص اس قادیانی مرتدہ کو علیحدہ نہیں کردیتا اس سے تمام معاشرتی تعلقات منقطع کرلینے چاہئیں، حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے:
ﵟ لَّا تَجِدُ قَوۡمٗا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَآءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَٰنَهُمۡ أَوۡ عَشِيرَتَهُمۡۚ أُوْلَٰٓئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡإِيمَٰنَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٖ مِّنۡهُۖ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ أُوْلَٰٓئِكَ حِزۡبُ ٱللَّهِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٢٢ ﵞ المجادلة ٢٢
ترجمہ:۔ ’’جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ وہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے بَرخلاف ہیں، گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے ہی کیوں نہ ہوں۔ ان لوگوں کے دِلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور ان (قلوب) کو اپنے فیض سے قوّت دی ہے (فیض سے مراد نور ہے) اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے، یہ لوگ اللہ کا گروہ ہے خوب سن لو کہ اللہ ہی کا گروہ فلاح پانے والا ہے۔‘‘ (ترجمہ: حکیم الامت تھانویؒ)
جواب:۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ ہر قادیانی ’’زِندیق‘‘ ہے، اور ’’زِندیق‘‘ وہ شخص ہے جو اسلام کے خلاف عقائد رکھتا ہو، اس کے باوجود اسلام کا دعویٰ کرتا ہو اور تأویلاتِ باطلہ کے ذریعہ اپنے عقائد کو عین اسلام قرار دیتا ہو۔(۱) اور ’’زِندیق‘‘ کا حکم بعینہٖ مرتد کا ہے۔ البتہ ’’زِندیق‘‘ اور ’’مرتد‘‘ میں یہ فرق ہے کہ مرتد کی توبہ بالاتفاق لائقِ قبول ہے،(۲) اور زِندیق کی توبہ کے قبول کئے جانے یا نہ کئے جانے میں اختلاف ہے۔(۳) اس ایک فرق کے علاوہ باقی تمام اَحکام میں مرتد اور زِندیق برابر ہیں۔ اس لئے قادیانی مرزائی خواہ پیدائشی مرزائی ہوں یا اسلام کو چھوڑ کر مرزائی بنے ہوں، دونوں صورت میں ان کا حکم مرتد کا ہے۔
- (۱) إن الزّندیق یموہ کفرہ ویروج عقیدتہ الفاسدۃ ویخرجھا فی الصورۃ الصحیحۃ وھٰذا معنٰی ابطان الکفر فلا ینافی إظھارہ الدعویٰ۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۴۲ باب المرتد، طبع سعید کراچی)۔
- (۲) وکل مسلم إرتد فتوبتہ مقبولۃ إلّا جماعۃ من تکررت ردتہ۔ (درمختار ج:۴ ص:۲۳۱ باب المرتد، طبع سعید)۔
- (۳) والثانی یفید الزندقۃ، فبعد أخذہ لَا تقبل توبتہ إتفاقًا فیقتل، وقبلہ اختلف فی قبول توبتہ، فعند أبی حنیفۃ تقبل فلا یقتل وعند بقیۃ الأئمۃ لَا تقبل ویقتل حدًّا۔ وفی الشامیۃ: وحاصل کلامہ أن الزندیق لو تاب قبل أخذہ، أی قبل أن یرفع إلی الحاکم، تقبل توبتہ عندنا وبعدہ لَا إتفاقًا وورد الأمر السلطانی للقضاۃ بأن ینظر فی حال ذالک الرجل إن ظھر حسن توبتہ یعمل بقول أبی حنیفۃ وإلّا فبقول باقی الأئمۃ، وأنت خبیر بأن ھٰذا مبنی علٰی ما مشی علیہ القاضی عیاض من مشھور مذھب مالک وھو عدم قبول توبتہ وأن حکمہ حکم الزندیق عندھم، وتبعہ البزازی کما قدمانہ عنہ، وکذا تبعہ فی الفتح، وقد علمت أن صریح مذھبنا خلافہ کما صرح بہ القاضی عیاض وغیرہ۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۴ ص:۲۳۵، ۲۳۶، باب المرتد، مطلب مھم فی حکم ساب الأنبیاء، طبع ایچ ایم سعید)۔

