عقیدےکےلحاظسےجنسےنکاحجائزنہیں
شیعہاورسنیکاآپسمیںرشتہجائزنہیںہوسکتا
سوال:۔
ہمارے شہر ڈیرہ اِسماعیل خان میں چونکہ ’’شیعہ سنی‘‘ برادری کے نکاح اکثر ہوتے رہتے ہیں، اس سلسلے میں آپ مکمل وضاحت کریں تاکہ تفصیلاً معلوم ہوجائے کہ یہ نکاح اسلامی نقطۂ نظر میں کس حد تک جائز یا ناجائز ہے؟ یا یوں کہیں کہ ہوسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:۔
شیعہ اثناعشری کے عقائد اہلِ سنت سے بالکل مختلف ہیں، اور ان کے تین عقیدے تو ایسے ہیں کہ ان کے بعد کسی تأویل کے ذریعے بھی ان کو مسلمان نہیں سمجھا جاسکتا، اور نہ ان سے اسلامی برتاؤ کیا جاسکتا ہے۔
اوّل:۔ ان کا یہ عقیدہ کہ حضراتِ خلفائے راشدینؓ ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ منافق ومرتد اور ظالم وغاصب تھے، اور آیاتِ کریمہ: ﵟ إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱرۡتَدُّواْ عَلَىٰٓ أَدۡبَٰرِهِم ﵞاورﵟ إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَشَآقُّواْ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلۡهُدَىٰ ﵞان کے حق میں نازل ہوئیں۔
دوم:۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ موجودہ قرآن تحریف شدہ ہے اور اس میں اَدل بدل کردی گئی ہے۔
سوم:۔ ان کا عقیدۂ اِمامت کہ بارہ اِمام، انبیائے کرام کی طرح معصوم اور مفترض الطاعت ہیں، اور وہ تمام انبیائے کرام سے افضل ہیں۔
ان تینوں عقیدوں کی تشریح میں اپنی کتاب ’’اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم‘‘(۱) میں اور اپنے رسالے ’’ترجمہ فرمان علی پر ایک نظر‘‘ میں کرچکا ہوں، ان کو ملاحظہ فرمالیا جائے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ ان عقائد کے لوگوں سے رشتہ ناطہ جائز نہیں ہوسکتا، اس لئے سنی لڑکی کا نکاح شیعہ عقائد رکھنے والوں سے صحیح نہیں، بلکہ باطل اور کالعدم ہے۔
- (۱) اختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم ص:۲۱ تا ۲۸، شیعہ سنی اِختلاف۔ طبع مکتبہ لدھیانوی۔

