عقیدےکےلحاظسےجنسےنکاحجائزنہیں
شیعہلڑکیسےنکاحکسطرحہوسکتاہے؟
سوال:۔
اگر شیعہ مذہب سے تعلق رکھنے والی لڑکی دِلی طور پر صحیح اسلام کو پسند کرتی ہے، لیکن اپنے گھر والوں کے خوف سے شادی سے پہلے واضح طور پر اِسلام قبول کرنے کے بجائے اپنی ہونے والی نند سے یہ کہتی ہے کہ میں سسرال آکر اہلسنّت کے مذہب کو اِختیار کرلوں گی، کیا اس کا یہ اِقرار نکاح کے صحیح ہونے کا جواز پیدا کرتا ہے؟
سوال:۔
لڑکے کے والدین یہ نکاح کرنے پر بضد ہیں اور معلوم ہونے کے باوجود شیعہ سنی مسئلے کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے، تو ایسی صورت میں بعض رشتہ داروں کی رائے یہ ہے کہ لڑکی کا بظاہر نکاح کرواکے رُخصتی کے بعد اپنے سسرال میں لاکر لڑکے کے حوالے کرنے سے پہلے لڑکی سے باقاعدہ اِسلام قبول کرواکر دوبارہ نکاح منعقد کیا جائے، جس پر لڑکی بھی بخوشی راضی ہو، تو کیا یہ صورت صحیح ہوگی؟
سوال:۔
اگر نکاح سے پہلے لڑکی اپنی ہونے والی نند کے سامنے خفیہ طور پر اِسلام قبول کرلے مگر فی الحال والدین کے ڈَر سے وہ والدین کے سامنے اپنے معمولات شیعہ مذہب کے مطابق کرے، جو کہ صرف دِکھلاوا ہو تو کیا ایسی صورت میں نکاح صحیح ہوگا؟
جواب:۔
’’کرلوں گی‘‘ کا کوئی اِعتبار نہیں، اگر وہ اہلِ حق کے مذہب کو قبول کرلے تو قبول کیا جائے گا۔
جواب:۔
جی ہاں! اگر ایسا ہوجائے تو صحیح ہے کہ لڑکی مسلمان ہوجائے اور دوبارہ اس کا نکاح کیا جائے۔
جواب:۔
صحیح ہے۔

