بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدے‌کے‌لحاظ‌سے‌جن‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

سنی‌لڑکی‌کا‌نکاح‌شیعہ‌مرد‌سے‌نہیں‌ہوسکتا

سوال:۔

کیا سنی لڑکی کا نکاح غیرسنی یعنی شیعہ مرد کے ساتھ ہوسکتا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟

جواب:۔

جو شخص کفریہ عقیدہ رکھتا ہو، مثلاً: قرآنِ کریم میں کمی بیشی کا قائل ہو، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتا ہو، یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو صفاتِ اُلوہیت سے متصف مانتا ہو، یا یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ حضرت جبریل علیہ السلام غلطی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی لے آئے تھے، یا کسی اور ضرورتِ دِین کا منکر ہو، ایسا شخص تو مسلمان ہی نہیں،(۱) اور اس سے کسی سنی عورت کا نکاح دُرست نہیں۔ شیعہ اثناعشریہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں، تین چار افراد کے سوا باقی پوری جماعتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کو (نعوذ باللہ) کافر و منافق اور مرتد سمجھتے ہیں، اور اپنے اَئمہ کو انبیائے کرام علیہم السلام سے افضل و برتر سمجھتے ہیں، اس لئے وہ مسلمان نہیں اور ان سے مسلمانوں کا رشتہ ناتا جائز نہیں۔ شیعہ عقائد و نظریات کے لئے میری کتاب ’’شیعہ سنی اختلاف اور صراطِ مستقیم‘‘ دیکھ لی جائے۔

  1. (۱) لَا شک فی تکفیر من قذف السیّدۃ عائشۃ رضی اللہ تعالٰی عنھا أو أنکر صحبۃ الصدیق أو اعتقد الاُلوھیۃ فی علیٍّ، أو ان جبریل غلط فی الوحی۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۳۷)۔ وبھٰذا ان الرافضی إن کان ممن یعتقد الألوھیۃ فی علیّ، أو أن جبریل غلط فی الوحی، أو کان ینکر صحبۃ الصدیق، أو یقذف السیّدۃ الصدیقۃ، فھو کافر لمخالفۃ القواطع المعلومۃ من الدین بالضرورۃ۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۴۶، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات)۔ وفی البحر الرائق (ج:۳ ص:۱۲۱، طبع دار المعرفۃ، بیروت) کتاب السیر، باب أحکام المرتدین: ویکفر من أراد بغض النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ بقذف عائشۃ رضی اللہ عنھا من نسائہ صلی اللہ علیہ وسلم فقط، وبإنکارہ صحبۃ أبی بکر رضی اللہ عنہ۔