بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدے‌کے‌لحاظ‌سے‌جن‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

مسلمان‌لڑکی‌کا‌عیسائی‌لڑکے‌سے‌شادی‌کرنا

سوال:۔

ایک ہفت روزہ رسالے کی ایک قریبی اِشاعت میں ایک مسئلہ شائع ہوا تھا، جس میں سائل کا سوال یہ تھا: ’’ہمارے اس مسئلے کا حل کیا ہے کہ میرے بھائی کی بیٹی نے ایک عیسائی نوجوان کے ساتھ تعلقات اُستوار کرلئے، بعد میں لوگوں کے مشورے سے اس عیسائی نوجوان سے اس کی شادی کردی گئی، ایسی صورت میں جبکہ وہ شخص بدستور اَب بھی عیسائی ہے، کیا یہ شادی جائز ہے؟‘‘ اور جواب یہ دیا گیا تھا: ’’اہلِ کتاب کے ساتھ شادی جائز ہے۔‘‘ آنجناب سے دریافت یہ کرنا تھا کہ آیا یہ مسئلہ صحیح ہے؟

جواب:۔

یہ مسئلہ غلط ہے، کسی مسلمان خاتون کی شادی کسی غیرمسلم مردسے نہیں ہوسکتی۔(۱) اور یہ مسئلہ کہ ’’اہلِ کتاب کے ساتھ شادی جائز ہے‘‘ اس صورت میں ہے کہ مسلمان مرد کسی اہلِ کتاب عورت سے شادی کرے،(۲) اس میں بھی یہ شرط ہے کہ وہ عورت واقعی اہلِ کتاب ہو بھی، ورنہ اگر وہ ملحد اور بے دِین ہو تو اس سے شادی جائز نہیں۔(۳) دُوسری شرط یہ ہے کہ اپنی اولاد کے بگڑ جانے اور بے دِین ہوجانے کا اندیشہ نہ ہو، ورنہ شادی جائز نہیں۔(۴)

دُوسری شرط یہ ہے کہ وہ اصل سے یہودیہ ونصرانیہ ہو، اِسلام سے مرتد ہوکر یہودیت ونصرانیت اِختیار نہ کی ہو، جب یہ دونوں شرطیں کسی کتابیہ عورت میں پائی جائیں تو اس سے نکاح صحیح ومنعقد ہوجاتا ہے، لیکن بلا ضرورتِ شدیدہ اس سے بھی نکاح مکروہ ہے، اور بہت سے مفاسد پر مشتمل ہے، اس لئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدِ خلافت میں مسلمانوں کو کتابیہ عورتوں سے نکاح کرنے کو منع فرمادیا تھا، اور جب عہدِ فاروقی میں، کہ زمانۂ خیر تھا، ایسے مفاسد موجود تھے، تو آج کل جس قدر مفاسد ہوں کم ہیں۔ (الحیلۃ الناجزۃ، رسالہ حکم الازدواج مع اختلاف الازواج ص: ۱۰۴، طبع دار الاشاعت کراچی، أیضًا: فتح القدیر ج:۲ ص:۳۷۲، فصل فی المحرمات، طبع دار صادر، بیروت)۔

  1. (۱) ولَا یجوز تزوّج المسلمۃ من مشرک ولَا کتابی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۲)۔ ومنھا إسلام الرجل إذا کانت المرأۃ مسلمۃ فلا یجوز إنکاح المؤمنۃ الکافر، لقولہ تعالٰی: ﵟ وَلَا تُنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤۡمِنُواْۚ ﵞ، ولأن فی إنکاح المؤمنۃ الکافر خوف وقوع المؤمنۃ فی الکفر۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۷۱، طبع ایچ ایم سعید)۔
  2. (۲) وکل من یعتقد دینًا سماویًّا ولہ کتاب منزل کصحف إبراھیم علیہ السلام وشیث، وزَبور داوٗد علیہ السلام فھو من أھل الکتاب، فتجوز مناکحتھم۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۱، طبع رشیدیہ)۔
  3. (۳) حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: اگر عورت کتابیہ یعنی یہودیہ، نصرانیہ وغیرہ ہو تو اس سے مسلمان مرد کا نکاح دو شرطوں کے ساتھ ہوسکتا ہے، اوّل یہ کہ وہ تمام اقوامِ یورپ کی طرح صرف نام کی عیسائی اور درحقیقت لامذہب (دہریہ) نہ ہو، بلکہ اپنے مذہبی اُصول کو کم از کم مانتی ہو، اگرچہ عمل میں خلاف بھی کرتی ہو۔
  4. (۴) وإنما کان غضبہ (أی غضب عمر رضی اللہ عنہ) لخلطۃ الکافرۃ بالمؤمن، وخوف الفتنۃ علی الولد لأنہ فی صغرہ الزم لأمہ۔ (فتح القدیر ج:۲ ص:۳۷۲، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، طبع دار صادر، بیروت)۔