بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدے‌کے‌لحاظ‌سے‌جن‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

شوہر‌کے‌مرتد‌ہونے‌سے‌نکاح‌فسخ‌ہوگیا،‌بیوی‌دُوسری‌جگہ‌نکاح‌کرسکتی‌ہے

سوال:۔

میری عمر ۳۰ سال ہے، میرے والد پی آئی اے میں ڈرائیور تھے جو کہ اب ریٹائر ہوگئے ہیں، میرا ایک بھائی جو کہ ابھی زیرِ تعلیم ہے، میری والدہ دِل کی مریضہ ہے، میری شادی والدین کی رضامندی سے میرے پھوپھی کے بیٹے سے اِنڈیا میں ہوئی ہے، میرے شوہر کا نام سعید شیخ ہے، جس سے میرے دو لڑکے ہیں، بڑے لڑکے کی عمر ۱۳ سال اور چھوٹے کی عمر ۱۱ سال ہے، میرے شوہر نے اب ہندو مذہب اپنالیا ہے، اور اِنڈیا کی تحریک شوشنا جو کہ ہندو تحریک ہے، اس میں شامل ہوگیا ہے، شراب پینا، جوا کھیلنا اور عورتوں کو گھر میں لانا، قرآن کو پھاڑ کر زمین پر ڈال کر شراب ڈال کر اَطراف ناچ ناچ کر یہ کہتا ہے کہ دیکھو تمہارا اللہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور یہ کہ جب میں مرجاؤں تو مجھ کو جلانا۔ مولانا صاحب! یہ مجھے ناجائز کاموں کے لئے کہتا ہے اور اپنے ہندو دوستوں کو گھر میں لاکر مجھ سے کہتا ہے کہ میں ان سے غلط تعلقات قائم کروں۔ جب یہ سب ماننے سے اِنکار کرتی ہوں تو مجھے بہت مارتا ہے اور سگریٹ سے جلاتا ہے۔ ان سب باتوں کی خبر میرے والدین کو ہوئی تو میری والدہ اِنڈیا آکر مجھے اور بچوں کو پاکستان لے آئی، مجھے پاکستان آئے ہوئے ۲ سال ۷مہینے ہوگئے ہیں، میرا میرے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں ہے، نہ وہ مجھے کوئی خرچ، نہ خط، کچھ بھی نہیں بھیجتا ہے، میں گھر کے قریب ایک فیکٹری میں کام کرکے اپنے بچوں کی کفالت کرتی ہوں۔ مولانا صاحب! قرآن اور سنت کی روشنی میں میرا ایسے شخص کے ساتھ نکاح ہے یا ختم ہوگیا ہے؟ (میرے شوہر نے گھر میں مندر بنالیا ہے اور بدھ کو پوجا روز صبح شام کرتے ہیں اور مجھے نماز روزے کسی بھی چیز کی اجازت نہیں ہے)۔

جواب:۔

جو واقعات سوال میں لکھے ہیں، اگر صحیح ہیں تو شوہر کے مرتد ہوجانے کے بعد نکاح فسخ ہوچکا ہے،(۱) اور چونکہ اس عرصے میں عدّت ختم ہوچکی ہے، اس لئے آپ اگر چاہیں تو دُوسری جگہ شادی کرسکتی ہیں، پہلے شوہر کے ساتھ اب کوئی تعلق نہیں رہا۔

  1. (۱) وإرتداد أحدھما (الزوجین) فسخ فلا ینقص عددًا عاجل بلا قضاء۔ (درمختار ج:۳ ص:۱۹۳)۔ وفی الفتاوی الھندیۃ (ج:۱ ص:۳۳۹) الباب العاشر فی نکاح الکفار: إرتد أحد الزوجین عن الْإسلام وقعت الفرقۃ بغیر طلاق فی الحال قبل الدخول وبعدہ ۔۔۔إلخ۔