بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدے‌کے‌لحاظ‌سے‌جن‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

مسلمان‌عورت‌کی‌غیرمسلم‌مرد‌سے‌شادی‌حرام‌ہے،‌فوراً‌الگ‌ہوجائے

سوال:۔

کیا ایک مسلمان عورت کسی مجبوری کی وجہ سے یا بے آسرا ہونے کی وجہ سے کسی عیسائی مرد کے ساتھ شادی کرسکتی ہے؟ جبکہ اس عورت کی پہلے کسی مسلمان آدمی سے شادی ہوئی تھی اور اس عورت کی ایک لڑکی بھی ہے، اور اَب عیسائی مرد سے بھی دو بچے ہیں، کیا مسلمان عورت، عیسائی سے شادی کرسکتی ہے؟ کیا وہ اپنا مذہب تبدیل کرسکتی ہے یعنی مسلمان سے عیسائی ہوسکتی ہے؟ قرآن و حدیث میں اس کی کیا سزا ہے؟

جواب:۔

کسی مسلمان عورت کی غیرمسلم سے شادی نہیں ہوسکتی،(۱) اس کو جائز سمجھنا کفر ہے۔(۲) اس عورت کو چاہئے کہ اس شخص سے فوراً الگ ہوجائے اور اپنے گناہ سے توبہ کرے، اور جن لوگوں نے اس شادی کو جائز کہا ہے وہ بھی توبہ کریں اور اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کریں، اور کسی مسلمان کا عیسائی بن جانے کا ارادہ کرنا بھی کفر ہے،(۳) اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھیں۔

  1. (۱) قال اللہ تعالٰی:ﵟ وَلَا تُنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤۡمِنُواْۚ ﵞ البقرة ٢٢١۔ وفی البدائع (ج:۳ ص:۴۶۵) کتاب النکاح (طبع دار الکتب العلمیۃ): ومنھا إسلام الرجل إذا کانت المرأۃ مسلمۃ، فلا یجوز إنکاح المؤمنۃ الکافر، لقولہ تعالٰی: ﵟ وَلَا تُنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤۡمِنُواْۚ ﵞ،ولأن فی إنکاح المؤمنۃ الکافر خوف وقوع مؤمنۃ فی الکفر ۔۔۔إلخ۔ (أیضًا: فتاویٰ ھندیۃ ج:۱ ص:۲۸۲، کتاب النکاح، طبع رشیدیہ)۔
  2. (۲) والأصل ان من اعتقد الحرام حلالًا فإن کان حرامًا لغیرہ کمال الغیر لَا یکفر، وإن کان لعینہٖ فإن کان دلیلہ قطعیا کفر۔ (ردالمحتار ج:۴ ص:۲۲۳، باب المرتد)۔
  3. (۳) وفی المحیط من رضی بکفر نفسہ فقد کفر أی إجماعًا۔ (شرح فقہ أکبر ص:۲۲۱ طبع لَاہور)۔