کفووغیرِکفو
سیّدلڑکیکیغیرسیّدلڑکےسےخفیہشادیکالعدمہے
سوال:۔
میں اور مشتاق ایک دُوسرے سے محبت کرتے ہیں، مشتاق نے میرے گھر رشتہ بھیجا مگر میرے گھر والوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ہم سیّد ہیں، باہر شادی نہیں کریں گے۔ ہم نے مایوس ہوکر علیحدگی میں پانچ آدمیوں کی گواہی میں سادے کاغذات پر نکاح نامہ لکھ کر ایجاب و قبول کیا اور شیرینی تقسیم کی اور کورٹ میں جانے کو فرصت پر ٹال دیا۔ مگر اب صورتِ حال یہ ہے کہ چند وجوہ کی بنا پر کورٹ نہ جاسکے تو ہمارا سابقہ نکاح کافی ہے یا نہیں؟
جواب:۔
سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی سیّد ہے اور لڑکے کا تعلق کسی غیرقریشی خاندان سے ہے، پس اگر لڑکا قریشی نہیں تو وہ سیّد لڑکی کا ’’کفو‘‘ نہیں، یعنی خاندانی اعتبار سے برابر نہیں۔ ایسا رشتہ والدین کی اجازت سے تو ہوسکتا ہے، لیکن جب والدین ناخوش ہوں تو نکاح صحیح نہیں۔ چونکہ یہ نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں، اس لئے آپ دونوں میاں بیوی نہیں بنے، اور اگر آپ کورٹ جاکر نکاح کرلیں گے والدین کی اطلاع و اجازت کے بغیر یہ نکاح جب بھی نہیں ہوگا۔(۱)
- (۱) وان المفتٰی بہ روایۃ الحسن عن الْإمام من عدم الْإنعقاد أصلًا إذا کان لھا ولی لم یرض بہ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۳۷ فصل فی الأکفاء طبع دار المعرفۃ بیروت)۔ نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا ولی، ولہ الْإعتراض فی غیر الکفو، وروی الحسن عن الْإمام عدم جوازہ، وعلیہ فتویٰ قاضی خان، وھٰذا أصح وأحوط والمختار للفتویٰ فی زماننا۔ (مجمع الأنھر ج:۱ ص:۴۸۸، باب الأولیاء والأکفاء، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔

