کفووغیرِکفو
سیّدکاغیرسیّدسےنکاحکرنےکاجواز
سوال:۔
ایک مسئلہ ’’سیّد قوم کی خاتون کا نکاح غیرسیّد سے ہوسکتا ہے‘‘ پڑھا۔ ہمارے یہاں پر ایک شاہ صاحب ہیں، وہ کہتے ہیں کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سیّد نہ تھے، بلکہ ’’سیّد‘‘ آلِ حسنؓ و حسینؓ کہلاتی ہے۔ آپ ذرا تفصیل سے اس مسئلے کی وضاحت فرمادیں۔
جواب:۔
جس طرح ان شاہ صاحب کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم سیّد نہ تھے، اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی سیّد نہ ہوئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی حضرت فاطمہ سیّدہ تھیں، ان سیّدہ کا نکاح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غیرسیّد سے کیا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاروں صاحب زادیاں سیّدہ تھیں، ان کے نکاح غیرسیّدوں سے ہوئے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساری صاحب زادیوں کے نکاح غیرسیّدوں سے ہوئے۔ اگر شاہ صاحب کے نزدیک آج کی سیّد زادیاں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کی اولاد سے زیادہ مقدس ہیں تو میں ان کو مسلمان ہی تصوّر نہیں کرتا۔ اور آج تک کسی اِمام و فقیہ نے یہ نہیں کہا کہ سیّدزادی کا نکاح غیرسیّد سے نہیں ہوسکتا۔ شاہ صاحب کو شاید معلوم نہیں کہ اِمام زین العابدینؒ نے اپنی ہمشیرہ کا نکاح اپنے ایک آزاد کردہ غلام سے کیا تھا۔(۱)
- (۱) وقال سفیان بن عیینۃ: کان علی بن الحسین یقول۔۔۔ وذکروا أنہ زوج أمہ من مولٰی لہ، وأعتق أمہ فتزوجھا۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۹ ص:۱۰۸، علی بن الحسین، طبع دار الفکر)۔

