کفووغیرِکفو
سیّدکانکاحغیرسیّدسے
سوال:۔
ہمارے ملک پاکستان میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو سیّد ہیں، وہ دُوسرے گھرانوں یعنی اہلسنّت والجماعت وغیرہ کے ہاں یا جو اہلسنّت ہیں سیّد خاندان کے ہاں شادی کرلیتے ہیں، کیا یہ جائز ہے یا ناجائز؟ اس کی تفصیل بیان کریں۔
جواب:۔
لڑکی اور اس کے والدین کی رضامندی سے ہر مسلمان کے ساتھ نکاح صحیح ہے، خواہ لڑکی اعلیٰ ترین شریف خاندان کی ہو اور لڑکا فرض کیجئے نومسلم ہو۔(۱) لیکن اگر والدین یہ نکاح لڑکی کی اجازت کے بغیر کرتے ہیں یا لڑکی والدین کی اجازت کے بغیر کرلیتی ہے تو جائز نہیں۔(۲)
- (۱) ولزم النکاح ولو بغبن فاحش بنقص مھرھا وزیادۃ مھرہ أو زوجھا بغیر کفئٍ أو إن کان الولی المزوج أبًا وجدًّا۔۔۔ لم یعرف منہ سوء الْإختیار۔ (درمختار ج:۳ ص:۶۶ باب الولی، أیضًا: ھدایۃ ج:۲ ص:۳۱۷، طبع ملتان)۔
- (۲) لَا ینفذ عقد الولی علیھا بغیر رضاھا۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۱۰)۔ وان المفتٰی بہ روایۃ الحسن علی الْإمام من عدم الْإنعقاد أصلًا إذا کان لھا ولی لم یرض بہ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۳۷ طبع بیروت)۔

