کفووغیرِکفو
غیرسیّدلڑکیکوسیّدگھرانےمیں’’ہدیہ‘‘کےطورپرچھوڑناحرامہے
سوال:۔
چند دوستوں، بلکہ اکثر سیّد خاندانوں کے بڑے بڑے لوگوں سے بھی سنا ہے کہ ایک عام (مسلمان) لڑکا سیّد لڑکی سے شادی نہیں کرسکتا، اور عام لڑکی (مسلمان) سیّد لڑکے سے شادی کرسکتی ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں کرسکتی۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگ اپنی لڑکی یا بیٹی کو ’’ہدیہ‘‘ کے طور پر سیّد گھرانے لے جاتے ہیں، تو گھر میں اگر سیّد لڑکا موجود ہے تو ہدیہ والی لڑکی سے شادی کرتا ہے، اور اگر موجود نہیں تو بے چاری لڑکی سیّد گھرانے کی ملازمہ بن جاتی ہے، اور اسی طریقے سے وہ شادی سے بھی بچ جاتی ہے اور زندگی تباہ ہوجاتی ہے، کیا یہ سب کچھ اسلام میں موجود ہے؟
جواب:۔
غیر سیّد لڑکے کی سیّد لڑکی سے شادی جائز ہے۔(۱) اور غیرسیّد لڑکی کو ’’ہدیہ‘‘ کے طور پر سیّد گھرانے میں چھوڑ دینا حرام ہے۔(۲)
- (۱) وقال سفیان بن عیینہ کان علی بن الحسین یقول۔۔۔ وذکروا أنہ زوج أمہ من مولٰی لہ وأعتق أمہ فتزوجھا۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۹ ص:۱۰۸، طبع مکتبۃ دار الفکر)۔
- (۲) ھو عقد یرد علٰی ملک المتعۃ قصدا أی النکاح عند الفقھاء والمراد بالعقد مطلقًا نکاحًا کان أو غیرہ مجموع إیجاب أحد المتکلمین مع قبول الآخر۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۸۵ کتاب النکاح)۔ أیضًا: ولو قال وھبت بنتی لخدمتک وقبل الآخر لَا یکون نکاحًا کذا فی الذخیرۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۷۰، کتاب النکاح، طبع رشیدیہ)۔

