بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کفو‌و‌غیرِکفو

سیّد‌لڑکا‌نہ‌ملنے‌کی‌وجہ‌سے‌سیّد‌لڑکیوں‌کو‌شادی‌سے‌محروم‌رکھنا

سوال:۔

ہمارے سیّد حضرات اکثر لڑکیوں کو سیّدوں میں رشتہ طے نہ ہونے کی وجہ سے غیرسیّد لڑکوں کے ساتھ نکاح نہ کرواکر شادی سے محروم رکھتے ہیں، کیا یہ دُرست ہے؟ اگر نہیں تو کیا غیرسیّد لڑکوں کے ساتھ نکاح دِلوانے میں کوئی شرعی عذر تو حائل نہیں ہے؟

جواب:۔

یہ رِواج ہے کہ لڑکی غیرسیّد کو نہیں دیتے، خواہ لڑکا کتنا ہی نیک ہو، اور خواہ لڑکی کو ساری عمر بٹھانا پڑے۔ یہ رِواج خالص جاہلی نخوت پر مبنی ہے، اور جاہلیت کے اس بت کو اِسلام نے توڑا ہے۔(۱)

  1. (۱) کان علی الحسین یقول۔۔۔ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللہ والیوم الْاٰخر وذکر اللہ کثیرًا، وقد أعتق صفیۃً فتزوجھا، وزوج مولَاہ زید بن حارثۃ من بنت عمہ زینب بنت جحش۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۹ ص:۱۰۸، ذکر علی بن الحسین، طبع دار الفکر)۔