کفووغیرِکفو
خفیہشادیکیشرعیحیثیت
سوال:۔
میری بیٹی نے ایک شادی شدہ مرد سے خفیہ شادی کی ہے، اُس شخص کی پہلے سے تین بیویاں اور بچے بھی ہیں۔ مجھے علم نہیں تھا کہ میری بیٹی نے خفیہ نکاح کرلیا ہے۔ جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے اس کی سخت مخالفت کی، میں بہت پریشان ہوں، جب سے میں نے اخبار میں شیخ الازہر شیخ محمد طنطاوی کا فتویٰ پڑھا ہے کہ ’’خفیہ شادی جرم ہے‘‘ اس شخص نے ابھی تک اپنے خاندان والوں پر میری بیٹی کے ساتھ شادی کو ظاہر نہیں کیا ہے، نہ کبھی اپنے گھر والوں کے پاس لے کر گیا ہے، ایک فلیٹ میں رکھا ہوا ہے۔ میں وہ کیفیت بیان نہیں کرسکتا کہ جب لوگ مجھ سے بیٹی کے بارے میں طرح طرح کے سوال کرتے ہیں، سخت ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا ہوجاتا ہوں، اگر بیٹی کو طلاق دِلوادُوں تو حرام کاری کی مرتکب تو نہیں ہوگی؟ اور کیا یہ عمل دُرست ہوگا؟
جواب:۔
جو لڑکیاں اپنے ماںباپ کی اجازت کے بغیر خفیہ شادی کرلیتی ہیں، شرعاً ان کا نکاح نہیں ہوتا، بلکہ وہ زِنا کی مرتکب ہیں۔(۱) اور آپ نے جو شیخ الازہر کا فتویٰ نقل کیا ہے، وہ صحیح ہے۔
- (۱) عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: البغایا اللّتی یُنکحن أنفسھن بغیر بینۃ۔۔۔ وأیضًا: نھی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن نکاح السر، وإن لم یحضرھما غیرھما، فھو نکاح السر فلا یجوز۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۴۵، کتاب النکاح، طبع بیروت)۔

