کفووغیرِکفو
لڑکیکاغیرکفوخاندانمیںبغیراجازتکےنکاحمنعقدنہیںہوتا
سوال:۔
ایک لڑکی نے والدین کی رضامندی کے بغیر کورٹ سے مختارنامہ لے کر اپنے سابقہ ڈرائیور سے شادی کرلی۔ ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ نکاح صحیح ہے یا والد کو فسخ کرنے کا حق ہے؟ جبکہ لڑکی میمن خاندان کی ہے، لڑکا پٹھان ہے۔ عادات و اخلاق کے اعتبار سے لڑکی والے اور لڑکے والوں میں بڑا فرق ہے، مالی اعتبار سے بھی لڑکے کی کچھ حیثیت نہیں ہے، لڑکی کو اپنی حیثیت کے مطابق خرچہ بھی نہیں دے سکتا۔ والدین کا خیال ہے کہ موجودہ نکاح غیرقانونی اور غیرشرعی ہے، لڑکی والوں کے خاندان پر بدنما داغ ہے، جبکہ لڑکے کی ایک بیوی پہلے سے موجود بھی ہے، اب کیا صورت ہوگی؟
جواب:۔
اگر لڑکے اور لڑکی کے درمیان نسب کے اعتبار سے، مال کے اعتبار سے، دِین کے اعتبار سے یا پیشے کے اعتبار سے جوڑ نہ ہو تو والدین کی رضامندی کے بغیر کیا گیا نکاح شرعاً صحیح نہیں ہے، اور دونوں کے درمیان تفریق کرادینا واجب ہے۔ مذکورہ سوال میں چونکہ پیشہ اور مال کے اعتبار سے لڑکا، لڑکی ہم پلہ نہیں ہیں اس لئے نکاح منعقد نہیں ہوا۔ دونوں کے درمیان علیحدگی ضروری ہے۔ لڑکی اور لڑکا اگر علیحدگی پر رضامند نہیں تو لڑکی کے والدین کو شرعاً قانونی و عدالتی کاروائی کرنے کا حق ہے۔ بہرحال لڑکی کی رضامندی پر والدین کی مرضی کے خلاف غیرخاندان میں جو نکاح ہوا وہ صحیح نہ ہوا۔(۱)
- (۱) ان المفتٰی بہ روایۃ الحسن عن الْإمام من عدم الْإنعقاد أصلًا إذا کان لھا ولی لم یرض بہ قبل العقد۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۳۷ باب الأولیاء والأکفاء، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔

