بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کفو‌و‌غیرِکفو

عورت‌کے‌دُوسرے‌نکاح‌میں‌اگر‌والدین‌شریک‌نہ‌ہوں‌تو‌نکاح‌کی‌شرعی‌حیثیت

سوال:۔

گھریلو حالات کے پیشِ نظر طلاق کا شبہ تھا، معلومات حاصل کرنے پر بھی بات واضح نہیں ہوئی، لہٰذا آخرت کو مدِنظر رکھتے ہوئے طلاق کو بالفعل عمل میں لاکر شرعی حلالہ کی صورت اِختیار کی گئی۔ گواہوں میں مرد کی طرف سے ماموںزاد بھائی نے عورت کی گواہی دی، مرد نے حلالہ کرنے والے کی گواہی دی، جبکہ دُوسری بار نکاح میں ماموںزاد بھائی اور اس کا دوست گواہ تھے۔ جمعہ ۲۳؍اگست کے ’’جنگ‘‘ کے مطابق دونوں کے والدین حیات ہوں اور شریک نہ ہوں تو اس نکاح کی شرعی حیثیت نہیں، متذکرہ بالا صورتِ حال کے حوالے سے آنجناب اِرشاد فرمائیں کہ والدین کی عدم موجودگی میں نکاح ہوا یا نہیں؟

جواب:۔

جس شخص سے دُوسرا نکاح کیا گیا، کیا وہ عورت کے جوڑ کا تھا؟ یعنی اگر والدین اس سے نکاح کرتے تو ان کے لئے عار کا باعث تو نہ ہوتا؟ اگر یہ شخص ایسا تھا جو اُوپر میں نے ذِکر کیا تو والدین کی اِجازت کے بغیر نکاح صحیح ہوگیا، اور اگر ایسا نہیں تھا تو نہیں ہوا۔(۱)

  1. (۱) إن المرأۃ إذا زوّجت نفسھا من کفؤ لزم علی الأولیاء، وإن زوّجت من غیر کفؤ لَا یلزم أو لَا یصح۔ (شامی ج:۳ ص:۸۴ باب الکفائۃ، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔