کفووغیرِکفو
عاقلہبالغہباکرہکاولیکیاِجازتکےبغیرکفومیںنکاحکرنا
سوال:۔
عاقلہ بالغہ باکرہ لڑکی اپنے کفو میں دادا، چچا، ماموں، بھائی، والدہ، خالہ کی اجازت کے بغیر اپنی مرضی سے نکاح کرسکتی ہے یا وہ ان مذکورہ رِشتہ داروں میں سے کسی کے فیصلے کی شرعاً پابند ہے؟
جواب:۔
شریف زادیاں اپنے اولیاء کی رضامندی کے بغیر نکاح نہیں کیا کرتیں، تاہم اگر کسی عاقلہ بالغہ لڑکی نے کفو میں نکاح کرلیا جیسا کہ آپ نے لکھا ہے، تو نکاح ہوجائے گا۔(۱)
- (۱) إن المرأۃ إذا زوّجت نفسھا من کفأٍ لزم علی الأولیاء۔ (شامی ج:۳ ص:۸۴، باب الکفائۃ)۔ نفذ نکاح حُرّۃ مکلفۃ بلا ولی لأنھا تصرفت فی خالص حقھا وھی من أھلہ لکونھا عاقلۃ بالغۃ، ولھٰذا کان لھا التصرف فی المال ولھا اختیار الأزواج وإنما یطالب الولی بالتزویج کیلا تنسب إلی الوقاحۃ ولذا کان المستحب فی حقھا تفویض الأمر إلیہ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۱۷ باب الأولیاء والأکفاء، طبع بیروت)۔

