کفووغیرِکفو
بےجوڑرِشتےوالانکاحبغیروالدینکیاِجازتکےجائزنہیں
سوال:۔
۲۳؍اگست کے جمعہ ایڈیشن میں آپ کا ایک جواب جو آپ نے نکاح کے بارے میں دیا، پڑھ کر ایک اُلجھن سی دِماغ میں ہوئی اور میں آپ کو خط لکھنے پر مجبور ہوگئی۔ میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے کافی عرصے پہلے کسی کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ نکاح صرف دو عاقل وبالغ افراد کی موجودگی میں اپنے آپ اِیجاب وقبول کرنے سے بھی ہوجاتا ہے، کسی مولوی کی بھی ضرورت نہیں۔ آپ کے اس جواب میں بھی یہ بات واضح نہیں ہوئی تھی کہ جو دو گواہ ہیں وہ صرف مرد ہوں یا عورت بھی ہوسکتی ہے؟ اور اَب آپ کا یہ جواب کہ ماں باپ کی غیرموجودگی میں نکاح ہی نہیں ہوتا۔ ایک ہی مسئلے پر آپ کے دو جواب مجھ جیسی کم فہم کے لئے ایک اُلجھن پیدا کر رہے ہیں۔
جواب:۔
عاقل بالغ دو گواہوں (دو مرد، یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں اِیجاب وقبول کرلیں تو نکاح ہوجاتا ہے،(۱) بشرطیکہ لڑکی کے والدین اس نکاح پر رضامند ہوں۔ اس لئے دونوں مسئلے اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔ والدین کی رضامندی کے بغیر اگر لڑکی بے جوڑ اور غیرموزوں جگہ نکاح کرلیتی ہے، تو یہ نکاح نہیں ہوگا، خواہ مولوی نے پڑھایا ہو، یا عدالت میں پڑھایا گیا ہو۔(۲)
- (۱) النکاح ینعقد بالْإیجاب والقبول ۔۔۔إلخ۔ ولَا ینعقد نکاح المسلمین إلّا بحضور شاھدین حُرّین عاقلین بالغین مسلمین رجلین أو رجل وامرأتین ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۰۵، ۳۰۶، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔
- (۲) فإن حاصلہ إن المرأۃ إذا زوّجت نفسھا من کفؤ لزم علی الأولیاء وإن زوجت من غیر کفؤ لَا یلزم أو لَا یصح۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۸۴ باب الکفائۃ، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔

