بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کفو‌و‌غیرِکفو

رشتے‌میں‌برادری‌کی‌پابندی‌ضروری‌نہیں

سوال:۔

ہمارے معاشرے میں آج کل لڑکیوں کی شادی کا مسئلہ کئی گھروں میں موجود ہے، ہمارے ہاں یہ رِواج ہے کہ لڑکیوں کی شادی خاندان یا قبیلے سے باہر نہیں کی جاتی، چاہے کتنا ہی اچھا رِشتہ کیوں نہ آئے، خاندان یا برادری، قبیلے سے باہر رِشتہ نہیں دیا جاتا۔ اکثر لڑکوں کے ساتھ بھی تقریباً یہی مسئلہ ہوتا ہے، تاہم لڑکوں کی شادیاں عام طور پر ان کی پسند سے خاندان سے باہر، یا قبیلے سے باہر کردی جاتی ہیں، (یا وہ خود بغاوت کرلیتے ہیں جسے اکثر بعد میں قبول کرلیا جاتا ہے)۔ اگر کسی لڑکی کا خاندان سے باہر، یا قبیلے سے باہر رِشتہ بھی آجائے تو سخت ناراضگی کا اِظہار کیا جاتا ہے اور یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ سخت بدنامی ہوگی، برادری میں ہم منہ دِکھانے کے قابل نہ رہیں گے، خاندان، برادری اور قبیلے والے اکثر لڑکی کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں، لڑکی کا جینا مشکل کردیتے ہیں، لڑکی کو اگر پسند ہو اور رِشتہ بھی نہایت اچھا ہو، تب بھی رشتہ نہیں کیا جاتا ہے، جبکہ لڑکوں کے ساتھ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ لڑکیوں کی عمر گھر بٹھاکر ضائع کردی جاتی ہے، لیکن برادری، خاندان یا قبیلے سے باہر رِشتہ نہیں دیا جاتا، بلکہ برادری سے باہر کی دوستی، دُشمنی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

کیا والدین کا برادری سے باہر رِشتہ نہ دینے کا یہ عمل جائز ہے؟ کیا مذکورہ بالا طرزِ عمل اِختیار کرنے والے والدین کے ذمے کوئی گناہ نہیں؟

سوال:۔

کیا اسلام لڑکی کو اس بات کی اِجازت دیتا ہے کہ مذکورہ بالا حالات اگر پیدا ہوں اور مناسب رشتہ موجود ہو تو لڑکی خود والدین کی مرضی کے بغیر شادی کرلے؟ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب:۔

رشتے میں برادری کی ایسی پابندی کہ برادری سے باہر کا رِشتہ خواہ کتنا ہی اچھا اور دِین دار ہو، تب بھی اس کو معیوب سمجھا جائے، قطعاً جاہلانہ نخوت ہے، اور ایسے والدین سخت گناہگار ہیں۔

جواب:۔

اگر لڑکا، لڑکی کے جوڑ کا ہو، جس کی وجہ سے یہ رِشتہ والدین کے لئے عار اور ذِلت کا موجب نہ ہو، تو جوان لڑکی والدین کی اِجازت کے بغیر عقد کرسکتی ہے،(۱) اور اگر لڑکا، لڑکی سے کمتر حیثیت کا ہو، جس کی وجہ سے یہ رِشتہ والدین کے لئے عار اور ذِلت کا موجب ہو، تو والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح نہیں ہوگا۔(۲)

  1. (۱) إن المرأۃ إذا زوّجت نفسھا من کفؤ لزم علی الأولیاء۔ (شامی ج:۳ ص:۸۴، باب الکفائۃ، طبع سعید کراچی)۔ وإذا زوجت المرأۃ البالغۃ الصحیحۃ العقل بغیر أمر ولیھا، فالنکاح جائز، وإن کان کفوًا لھا لم یکن للأولیاء أن یفرقوا بینھما۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۵۵، کتاب النکاح، طبع دار السراج، بیروت)۔
  2. (۲) وإن زوّجت من غیر کفؤ لَا یلزم أو لَا یصح۔ (شامی ج:۳ ص:۸۴، باب الکفائۃ)۔ وإذا زوجت المرأۃ نفسھا من غیر کفؤ فللأولیاء أن یفرقوا بینھما لأنھا ألحقت العار بالأولیاء۔ (المبسوط للسرخسی ج:۵ ص:۲۵، باب الأکفاء، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔