بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کفو‌و‌غیرِکفو

غیربرادری‌میں‌شادی‌کرنا‌شرعاً‌منع‌نہیں

سوال:۔

بعض مسلمان برادریاں اپنے سوا ہر دُوسری مسلمان برادریوں میں شادی بیاہ کرنا بہ منزلہ حرام کے سمجھتی ہیں۔ براہ مہربانی تحریر فرمائیے کہ ان کا یہ فعل شرعی لحاظ سے کیسا ہے؟ اس قسم کے ایک نکاح کی ایک ایسے صاحب شدید مخالفت کر رہے ہیں جن کے والد کے نکاح میں غیربرادری کی دو خواتین تھیں اور بیٹے کے گھر میں بھی غیربرادری کی خاتون ہے، ان صاحب کی اس مخالفت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب:۔

برادری کے محدود دائرے میں شادی بیاہ کرنے پر بعض برادریوں کی طرف سے جو زور دیا جاتا ہے اور بعض دفعہ اس پر ہرجانہ یا بائیکاٹ تک کی سزا دی جاتی ہے، یہ تو شرعاً بالکل غلط ہے اور حرام ہے۔(۱) لڑکی اور اس کے والدین کی رضامندی سے دُوسری اسلامی برادریوں میں بھی نکاح ہوسکتا ہے اور اس میں شرعاً کوئی عیب کی بات نہیں، اور اگر دُوسری برادری کا لڑکا نیک ہو اور اپنی برادری میں ایسا رشتہ نہ ہو، تو غیربرادری کے ایسے نیک رشتے کو ترجیح دینی چاہئے۔(۲)

  1. (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یدخل الجنّۃ قاطع۔ (مشکوٰۃ ص:۴۱۹)۔ أیضًا: عن عبداللہ بن أبی أوفٰی قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: لَا تنزل الرحمۃ علٰی قوم فیھم قاطع رحم۔ (مشکوٰۃ ص:۴۲۰، باب البر والصلۃ)۔
  2. (۲) کما فی حدیث أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تنکح المرأۃ لأربع، لمالھا، ولحسبھا، ولجمالھا، ولدینھا، فاظفر بذات الدین۔ (مشکوٰۃ ص:۲۶۷، کتاب النکاح، الفصل الأوّل، طبع قدیمی کتب خانہ کراچی)۔