کفووغیرِکفو
غیرکفومیںنکاحباطلہے
سوال:۔
اگر ایک لڑکا اور ایک لڑکی ایک دُوسرے کو پسند کرتے ہیں، اور لڑکی والوں کا یہ قانون یا رواج ہے کہ وہ خاندان سے یا برادری سے باہر لڑکی نہیں دیتے، اور جس لڑکے کو لڑکی پسند کرتی ہے وہ غیربرادری کا ہے، اور تعلیم، اخلاق اور مالی حیثیت میں لڑکی سے کم نہیں ہے اور وہ دونوں گھر والوں سے چھپ کر شادی کرلیتے ہیں تو کیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟
سوال:۔
اگر باپ دادا اور بھائیوں کی غیرموجودگی میں نکاح باطل ہے تو شریعت کے مطابق اس نکاح کی اہمیت کیا ہے جو والدین سے چھپ کر کرتے ہیں، یعنی کورٹ میرج؟
جواب:۔
اگر لڑکا ہر طرح لڑکی کی حیثیت کے برابر کا ہے کہ لڑکی کے وارثوں کو اس نکاح سے کوئی عار نہیں لاحق ہوتی تو نکاح صحیح ہے۔(۱)
جواب:۔
اگر کفو میں ہو تو جائز ہے،(۲) اور غیرکفو میں ہو تو باطل ہے۔(۳)
- (۱) ان المرأۃ إذا زوّجت نفسھا من کفؤ لزم علی الأولیاء۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۸۵، باب الولی، طبع ایچ ایم سعید کراچی، أیضًا: البحر الرائق ج:۳ ص:۱۱۷، باب الأولیاء والأکفاء، طبع بیروت)۔
- (۲) أیضًا۔
- (۳) وإن زوّجت من غیر کفؤ لَا یلزم أو لَا یصح۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۸۵، باب الولی، طبع سعید کراچی)۔ وفی البحر الرائق: وان المفتٰی بہ روایۃ الحسن عن الْإمام من عدم الْإنعقاد أصلًا إذا کان لھا ولی ولم یرض بہ قبل العقد۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۳۷،۱۳۸ باب الأولیاء والأکفاء)۔

