کفووغیرِکفو
غیروںمیںلڑکیوںکیشادینہکرنااگرچہبیٹھیرہجائیں
سوال:۔
ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ لڑکیوں کی شادی غیروں میں نہیں کرتے، اور بعض تو کہتے ہیں کہ چاہے ہماری لڑکیاں بیٹھی رہ جائیں، ہم ان کی شادی غیروں میں نہیں کریں گے۔ ہمارے ہاں اتنی قابل اور اچھی لڑکیاں والدین کے اسی فعل کی وجہ سے بیٹھی ہوئی ہیں، اور ان کی عمریں بھی بہت زیادہ ہوگئی ہیں۔ کیا والدین کا یہ فعل دُرست ہے؟ کیا شادی کے معاملے میں ذات پات کی کوئی قید ہے؟ جو والدین اس طرح کرتے ہیں، ان کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟
جواب:۔
برادری میں شادی کرنے میں کچھ مصلحتیں تو پیشِ نظر ہوتی ہیں، مگر اس معاملے میں اتنا تشدّد کرنا کہ برادری سے باہر خواہ کتنا ہی اچھا رِشتہ ہو، طے نہیں کیا جاتا، یہ جاہلانہ حرکت ہے، اور اس کے نتیجے میں بچیوں کے رشتے نہ ہونا نہایت افسوسناک بات ہے۔(۱)
- (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا خطب إلیکم من ترضون دینہ وخلقہ فزوّجوہ، ان لّا تفعلوا تکن فتنۃ فی الأرض وفساد عریض۔ رواہ الترمذی۔ (مشکوٰۃ ص:۲۶۷، کتاب النکاح، الفصل الثانی)۔

