بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کفو‌و‌غیرِکفو

شادی‌میں‌’’برابری‘‘‌کی‌شرط‌سے‌کیا‌مراد‌ہے؟

سوال:۔

’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ کے کالم میں ایک سوال شائع ہوا تھا: کیا اِسلام میں پسند کی شادی کی اِجازت ہے؟ جواب ہاں میں تھا، ظاہر ہے فریقین اگر راضی ہوں تو پسند کی شادی کی بالکل اِجازت ہے، مگر ساتھ ہی دو باتیں بھی لکھی تھیں کہ والدین کی رضامندی اور ہم پلہ ہونا ضروری ہے، اس سلسلے میں کچھ وضاحت درکار ہے۔

والدین کی رضامندی تو بہتر اور سعادت مندی ہے، اور سمجھ دار والدین پسند کے معاملے میں بلاوجہ رُکاوٹ نہیں بنتے، لوگ ٹھیک ہوں تو والدین کے یا سرپرست کے علاوہ کسی اور کو مداخلت کا حق بھی نہیں ہے، مگر آج کل والدین ویسے ہی اولاد کی شادی کی فکر نہیں کرتے، شادی کے ساتھ بے شمار لوازمات اور شرائط عائد کردیتے ہیں، نہ وہ پوری ہوتی ہیں، نہ شادی کی نوبت آتی ہے۔ عجیب حالت ہے۔ ایسے میں کیا ہو؟ اِسلام میں تو نکاح کی بڑی تاکید ہے۔ دُوسرا سوال یہ ہے کہ ہم پلہ سے کیا مراد ہے؟ رہن سہن، طرز واَطوار کے لحاظ سے ہم پلہ یا حسب نسب کے لحاظ سے ہم پلہ؟ اسلام میں تو ذَات، رنگ، نسل، زبان اور دولت کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہے، سب برابر ہیں، اس لئے اس کی وضاحت درکار ہے۔ ویسے لوگ طبیعت کی نیکی اور شرافت، سمجھ داری، بُردباری کو زیادہ دیکھتے ہیں۔

کیا ہم پلہ ہونا ایک ترجیحی چیز ہے یا لازمی شرط ہے؟ اگر ہم پلہ نہ ہو تو نکاح نہ ہوگا یا ہوجائے گا؟ ایک اور سوال یہ ہے کہ فریقین کی عمر کی بھی کوئی شرط ہے یا ان کی اپنی رضا ہے کہ دونوں فریق راضی ہوں؟ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ عمر کا فرق فریقین میں زیادہ ہوگا تو نکاح نہیں ہوگا۔ اسی طرح کچھ لوگ ایک سے زائد شادی کرنے کو غلط مفہوم دے کر اِسلام پر معترض نظر آتے ہیں۔

جواب:۔

والدین اگر سمجھ دار ہوں تو وہ اولاد کی خانہ آبادی پر خوش ہوتے ہیں۔ بے مقصد نکتہ چینیاں کرنا احمق لوگوں کا کام ہے۔ شریف والدین کسی کی اولاد پر نکتہ چینی نہیں کرتے، اگر رِشتہ مناسب معلوم ہو تو ہاں کردیتے ہیں، ورنہ خاموشی اِختیار کرلیتے ہیں۔

۲:۔ برابری میں بہت سی چیزوں کو ملحوظ رکھا جاتا ہے، برادری کو بھی، پیشے کو بھی اور دُوسری بعض اور چیزوں کو بھی، لیکن یہ شرط صرف اس لئے ہے کہ والدین کو عار نہ ہو، ورنہ ایک مسلمان کا دُوسرے مسلمان کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے۔(۱)

اِمام زین العابدینؒ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں، انہوں نے اپنی باندی کو آزاد کیا اور اس سے نکاح کرلیا، اور اپنے غلام کو آزاد کیا، اپنی کسی عزیزہ کا اس کے ساتھ نکاح کردیا، اس وقت کے بادشاہ نے ۔۔۔جو غالباً ہشام بن عبدالملک تھا۔۔۔ اس پر اِعتراض کیا کہ آپ قریش کے ممتاز ترین فرد ہیں، آپ نے باندی کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرلیا، اور آپ کی عزیزہ قریش کے اُونچے خاندان کی لڑکی ہیں، آپ نے اپنے غلام کو آزاد کرکے اس کا نکاح ان سے کردیا۔ حضرتؒ نے جواب میں تحریر فرمایا: ﵟ لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِي رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ ﵞ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہؓ کو آزاد کیا اور اس سے نکاح کرلیا، اور زید بن حارثہؓ سے جو کہ غلام تھے، اپنی پھوپھی زاد بہن زینب بنت جحشؓ کا نکاح کردیا۔(۲)

  1. (۱) (قولہ والکفائۃ تعتبر نسبًا فقریش اکفاء، والعرب اکفاء، وحریۃ واسلامًا، وأبوان فیھما کالآباء ودیانۃ ومالًا وحرفۃ لأن ھٰذہ الأشیاء یقع بھا التفاخر فیما بینھم فلا بد من اعتبارھا۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۳۹، باب الأولیاء والأکفاء)۔ وفیہ أیضًا: وإنما یطالب الزوج بالتزویج کیلا تنسب إلی الوقاحۃ ولذا کان المستحب فی حقھا تفویض إلیہ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۱۷، باب الأولیاء والأکفاء، طبع بیروت)۔
  2. (۲) وقال سفیان بن عیینۃ: کان علی بن الحسین یقول۔۔۔ وذکروا أنہ زوج أمہ من مولٰی لہ وأعتق أمہ فتزوجھا فأرسل إلیہ عبدالملک یلومہ فی ذالک، فکتب إلیہ: ﵟ لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِي رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ لِّمَن كَانَ يَرۡجُواْ ٱللَّهَ وَٱلۡيَوۡمَ ٱلۡأٓخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرٗا ٢١ ﵞوقد أعتق صفیۃ فتزوجھا، وزوج مولَاہ زید بن حارثۃ من بنت عمّہ زینب بنت جحش۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۹ ص:۱۰۸، بحث علی بن الحسین، طبع مکتبۃ دار الفکر، بیروت)۔