نابالغاولادکانکاح
والدنےنابالغلڑکیکانکاحذاتیمنفعتکےبغیرکیاتھاتولڑکیکوبالغہونےکےبعدختمکرنےکااختیارنہیں
سوال:۔
’’الف‘‘ نے اپنی بچی کی بچپن ہی میں وکیل بن کر ’’ب‘‘ سے منگنی اور باقاعدہ نکاح کیا، مگر بوجہ نابالغ ہونے کے رُخصتی ۱۲-۱۳ سال تک ممکن نہ تھی، مگر جب مذکورہ لڑکی جوان ہوگئی اور سمجھ دار ہوگئی تو اس نے ’’ب‘‘ سے رشتے کو پسند نہیں کیا اور صاف انکار کرگئی، تو کیا اس صورت میں لڑکی اس نکاح کو ختم کرسکتی ہے یا کہ نہیں؟ ختم کرسکتی ہو تو محض زبان سے یا عدالت سے رُجوع لڑکی کے لئے اَز روئے شریعت ضروری ہے؟
جواب:۔
اگر باپ نے اپنے کسی ذاتی مفاد کے لئے یہ نکاح نہیں کیا تھا تو لڑکی کو بالغ ہونے کے بعد نکاح فسخ کرنے کا اختیار نہیں،(۱) اگر وہ اس گھر میں آباد نہیں ہونا چاہتی تو اپنے شوہر سے خلع لے سکتی ہے۔(۲)
- (۱) ولزم النکاح ولو بغبن فاحش أو بغیر کفؤ إن کان الولی أبًا وجدًّا لم یعرف منھما سوء الْإختیار۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۶۶، باب الولی، طبع ایچ ایم سعید کراچی، أیضًا: ھدایۃ ج:۲ ص:۳۱۷، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔
- (۲) ﵟ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ ﵞ البقرة ٢٢٩۔ وفی شرح مختصر الطحاوی (ج:۴ ص:۴۵۴) کتاب النکاح: فاقتضٰی ظاھر الآیۃ جواز خلعھا عند الخوف أن لّا یقیما حدود اللہ علی الکثیر والقلیل۔

