نابالغاولادکانکاح
بچپنکےنکاحکےفسخہونےیانہہونےکیصورت
سوال:۔
ایک لڑکی کے بچپن میں باپ نے ایک شخص کو عام طریقے سے کہہ دیا تھا کہ میں نے اپنی لڑکی تمہارے لڑکے کو دے دی۔ اب لڑکی نے بالغ ہونے کے بعد عدالت میں بیان دیا ہے کہ میں اپنی مرضی سے شادی کروں گی، اس صورت میں پہلا نکاح ہوا یا نہیں؟
جواب:۔
’’میں نے اپنی لڑکی تمہارے لڑکے کو دے دی‘‘ کے الفاظ کبھی ’’رشتے کا وعدہ‘‘ یعنی منگنی کے لئے بولے جاتے ہیں، اور کبھی نکاح کے ایجاب و قبول کے لئے، اب فیصلہ طلب چیز یہ ہے کہ یہ الفاظ لڑکی کے والد نے کس حیثیت سے کہے تھے؟ اس کا فیصلہ اس طرح ہوسکتا ہے کہ:
الف:۔ جس مجلس میں یہ الفاظ کہے گئے اگر وہ مجلس لڑکے یا لڑکی کے نکاح کے لئے منعقد کی گئی تھی، قاضی کو بھی بلایا گیا تھا، گواہ بھی بلائے گئے تھے، مہر بھی مقرّر کیا گیا تھا، اور لڑکے لڑکی کے والدین نے اپنے بچوں کی طرف سے وکیل بن کر اِیجاب و قبول بھی کیا تھا تو یہ ’’نکاح‘‘ ہوا۔ بالغ ہونے کے بعد لڑکی کو اس کے توڑنے کا اِختیار نہیں،(۱) اور اس کا عدالت میں دیا ہوا بیان بھی بے محل ہے، اب اس کا حل یہ ہے کہ لڑکے سے باقاعدہ طلاق لی جائے۔
ب:۔ دُوسری صورت یہ ہے کہ جس موقع پر یہ الفاظ کہے گئے تھے، نہ وہ نکاح کی مجلس تھی، نہ مہر کا ذکر تھا، نہ گواہ تھے تو ’’میں نے اپنی لڑکی تمہارے لڑکے کو دے دی‘‘ کے الفاظ محض وعدۂ نکاح یا منگنی شمار ہوں گے، اس لئے لڑکی کا وہاں شادی کرنے سے انکار صحیح ہے، کیونکہ جب ان الفاظ سے نکاح ہی نہیں ہوا، تو لڑکی کو عدالت میں جاکر بیان دینے کی ضرورت نہیں۔(۲)
- (۱) لو فعل الأب أو الجد عند عدم الأب لَا یکون للصغیر والصغیرۃ حق الفسخ بعد البلوغ۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۶۸)۔
- (۲) لو قال ھل اعطیتنیھا فقال اعطیت إن کان المجلس للوعد فوعد وإن کان للعقد فنکاح۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۱۱)۔

