نابالغاولادکانکاح
نابالغلڑکیکانکاحاگرباپکردےتوبلوغتکےبعداسےفسخکااختیارنہیں
سوال:۔
ایک نابالغ لڑکی کا نکاح اس کے والد نے کردیا تھا، پھر اس کا والد فوت ہوگیا، وہ لڑکی اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہے، یہاں تک کہ اب بالغ ہے، اب لڑکے والے اصرار کرتے ہیں کہ لڑکی ہمارے ہاں رُخصتی کردو لیکن لڑکی کی ماں اور لڑکی نہیں مان رہی ہیں۔ اب کیا کیا جائے؟ اور لڑکے والے چھوڑ نہیں رہے، اب عدالت میں لڑکے سے طلاق دِلوائی جائے یا لڑکی کو بھیج کر پھر وہ خودبخود طلاق دے دے یا مہر واپس کرکے طلاق لی جائے؟
جواب:۔
جب نابالغ کا نکاح اس کے والد نے کردیا اور نکاح گواہوں کے سامنے ہوا تو یہ نکاح برقرار ہے، اور لڑکے والے اپنے مطالبے میں حق بجانب ہیں، اور لڑکی اور اس کی والدہ کا انکار صحیح نہیں، اب اگر لڑکی وہاں آباد نہیں ہونا چاہتی تو اس کے شوہر سے طلاق لے لی جائے، اور اگر شوہر مہر معاف کرنے کے بدلے میں طلاق دینا چاہتا ہے تو مہر چھوڑ دیا جائے۔ لڑکے کو بھی چاہئے کہ جب لڑکی اس کے گھر آباد ہونا نہیں چاہتی تو خواہ مخواہ اس کو روک کر گنہگار نہ ہو، بلکہ خوش اُسلوبی سے طلاق دے کر فارغ کردے۔ بہرحال جب تک لڑکے سے طلاق نہ لی جائے (خلع بھی طلاق ہی کی ایک شکل ہے) تب تک یہ نکاح قائم ہے، محض لڑکی کے یا لڑکی کی والدہ کے انکار کردینے سے نکاح فسخ نہیں ہوگا، اور لڑکی دُوسری جگہ عقد کرنے کی مجاز نہیں ہوگی۔(۱)
- (۱) لو فعل الأب أو الجد عند عدم الأب لَا یکون للصغیر والصغیرۃ حق الفسخ بعد البلوغ۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۶۸، باب الولی، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔ قال أبو جعفر: ومن وقع بینہ وبین زوجتہ شقاق فلہ أن یطلقھا علٰی جُعْلٍ یأخذہ منھا بعد أن لَا یتجاوز بہ ما أعطاھا، وإن کان النشوز من قبلہ، لم ینبغ لہ أن یأخذ منھا شیئًا۔۔۔ قال أحمد: الأصل فی ذالک قول اللہ تعالٰی: ﵟ وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ ﵞ۔ فاقتضٰی ظاھر الآیۃ جواز خلعھا عند الخوف أن لّا یقیما حدود اللہ علی الکثیر والقلیل ۔۔۔إلخ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۴۵۴، کتاب النکاح، مسألۃ الخلع، طبع بیروت)۔

