نابالغاولادکانکاح
باپداداکےعلاوہدُوسرےکاکیاہوانکاحلڑکیبلوغتکےبعدفسخکرسکتیہے
سوال:۔
مسماۃ زینب کا نکاح مسمّیٰ زید سے اس وقت منعقد ہوا جب زینب بالغ نہیں تھی، چنانچہ زینب کی طرف سے زینب کے والدین کی عدم موجودگی میں زینب کے ماموں نے قبول کیا، دو سال بعد زینب بالغ ہوگئی، بلوغت کے ساتھ ہی زینب نے اس نکاح کو فسخ کرڈالا، اس صورت میں مسماۃ زینب کے لئے شرعاً و قانوناً دُوسرے شوہر کے نکاح میں جانے کا جواز ہے یا نہیں؟ جانے میں عدّت کا مسئلہ طے ہوگا کہ نہیں؟
جواب:۔
نابالغ بچی کا نکاح اگر اس کے باپ دادا کے علاوہ کسی اور نے کردیا ہو تو اس بچی کو بالغ ہونے کے بعد اِختیار ہے، خواہ اس نکاح کو برقرار رکھے یا مسترد کردے۔(۱) چونکہ زینب نے بالغ ہونے کے فوراً بعد اس نکاح کو، جو اس کے ماموں نے کیا تھا، مسترد کردیا، اس لئے یہ نکاح فسخ ہوگیا، لڑکی دُوسری جگہ عقد کرسکتی ہے، چونکہ ماموں کا کیا ہوا نکاح رُخصتی سے پہلے ہی کالعدم ہوگیا، اس لئے لڑکی کے ذمہ عدّت بھی نہیں۔(۲)
- (۱) حاشیہ گذشتہ: لو فعل الأب أو الجد...الخ
- (۲) قال تعالٰی:ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نَكَحۡتُمُ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ ثُمَّ طَلَّقۡتُمُوهُنَّ مِن قَبۡلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمۡ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ عِدَّةٖ تَعۡتَدُّونَهَاۖ ﵞ الأحزاب ٤٩۔ قال: ویطلق غیر المدخول بھا متٰی شاء، لأنہ لیس علیھا عدۃ فیعتبر طلاقھا للعدۃ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۵ ص:۴۹، کتاب الطلاق، طبع بیروت)۔

