بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نابالغ‌اولاد‌کا‌نکاح

نابالغی‌کا‌نکاح‌اور‌بلوغت‌کے‌بعد‌اِختیار

سوال:۔

ہمارے گاؤں میں نکاح کا ایک طریقہ رائج ہے، جو کہ کم و بیش ہی پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ لڑکا اور لڑکی ابھی چھوٹی عمر کے ہی ہوتے ہیں یعنی بالکل نابالغ بچے ہوتے ہیں کہ ان کے والدین ان نابالغ بچوں کے نکاح کا آپس میں ایک معاہدہ کرلیتے ہیں۔ میری آپ سے گزارش یہ ہے کہ کیا یہ نکاح اسلام میں جائز ہے؟ ہماری مقامی زبان میں اسے ’’جابہ قبولہ‘‘ کہتے ہیں، کیونکہ میں نے کتاب میں پڑھا ہے کہ نکاح میں لڑکے اور لڑکی کا رضامند ہونا نہایت ہی ضروری ہے، ورنہ جبراً نکاح نہیں ہوتا۔ اگر یہ جابہ قبولہ جائز ہے تو اس کی شرائط کیا ہیں؟ اور یہ معاہدہ کون کرسکتا ہے؟ نیز بالغ ہونے پر لڑکے اور لڑکی کی رضامندی نہ ہو تو ان کے لئے کیا حکم ہے؟ اور اس معاہدہ یعنی جابہ قبولہ کا شریعت کی رُو سے نام کیا ہے؟

جواب:۔

نابالغی کا نکاح جائز ہے۔(۱) پھر اگر باپ اور دادا کے علاوہ کسی اور نے کرادیا تھا تو بالغ ہونے کے بعد لڑکی کو اختیار ہوگا کہ وہ اسے رکھے یا مسترد کردے،(۲) مگر شرط یہ ہے کہ جس مجلس میں لڑکی بالغ ہو اسی مجلس میں اعلان کردے، ورنہ نکاح لازم ہوجائے گا اور بعد میں مسترد کرنے کا اِختیار نہیں ہوگا۔(۳) اور باپ دادا کے کئے ہوئے نکاح کو مسترد کرنے کا اِختیار نہیں،(۴) اِلَّا یہ کہ واضح طور پر یہ نکاح اولاد کی رعایت و شفقت کی بنا پر نہیں بلکہ کسی لالچ کی بنا پر کیا ہو۔(۵)

  1. (۱) وللولی إنکاح الصغیر والصغیرۃ ولو ثیبا۔ (درمختار ج:۳ ص:۶۶، باب الولی)۔ قال أبو جعفر: ولسائر الأولیاء تزویج الصغار ویتوارثان بذالک۔۔۔ ومن جھۃ السُّنۃ: أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم تزوّج عائشۃ رضی اللہ عنھا، وھی صغیرۃ زوجھا إیاہ أبوبکر۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۱۹۲، ۱۹۳، کتاب النکاح، طبع دار البشائر الْإسلامیۃ)۔
  2. (۲) وإن فعل غیرھما فلھما أن یفسخا بعد البلوغ۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۶۸، باب الولی، طبع ایچ ایم سعید کراچی، أیضًا: البحر الرائق ج:۳ ص:۱۲۸، باب الأولیاء والأکفاء، طبع بیروت)۔
  3. (۳) فلو سکتت ولو قلیلًا بطل خیارھا ولو قبل تبدل المجلس۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۷۳)۔
  4. (۴) لو فعل الأب أو الجد عند عدم الأب لَا یکون للصغیر والصغیرۃ حق الفسخ۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۶۸، باب الولی، أیضًا: البحر الرائق ج:۳ ص:۱۲۸، طبع بیروت)۔
  5. (۵) لو عرب من الأب سوء الْإختیار لسفہہ أو لطمعہ لَا یجوز عقدہ إجماعًا۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۶۷، باب الولی)۔