بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نابالغ‌اولاد‌کا‌نکاح

بالغ‌ہوتے‌ہی‌نکاح‌فوراً‌مسترد‌کرنے‌کا‌اِختیار

سوال:۔

کیا نابالغ لڑکی کا نکاح نابالغ لڑکے سے ہوجاتا ہے، جبکہ وہ دونوں اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ اپنی والدہ کا دُودھ پی رہے ہوتے ہیں؟ بعض خاندانوں میں ایسے نکاح کا رِواج عام ہے، اور اس نکاح کے تمام فرائض لڑکی کی ماں اور لڑکے کا باپ انجام دیتا ہے، کیا یہ نکاح شریعت کی رُو سے جائز ہے؟

جواب:۔

نابالغی میں بچوں کا نکاح نہیں کرنا چاہئے، بلکہ ان کے بالغ ہونے کے بعد ان کے رُجحان کا لحاظ کرتے ہوئے کرنا چاہئے۔ تاہم بعض اوقات والدین اَزراہِ شفقت اسی میں بھلائی دیکھتے ہیں کہ نابالغی میں بچے کا عقد کردیا جائے۔ اس لئے شریعت نے نابالغی کے نکاح کو بھی جائز رکھا ہے۔

پھر اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر نکاح باپ یا دادا نے کیا ہو تو بچوں کو بالغ ہونے کے بعد اِختیار نہیں، بلکہ لڑکا اگر اس رشتے کو پسند نہیں کرتا تو طلاق دے سکتا ہے، اور اگر لڑکی پسند نہیں کرتی تو خلع لے سکتی ہے۔ اور اگر باپ یا دادا کے علاوہ کسی اور نے نابالغ کا نکاح کردیا تھا تو بالغ ہونے کے بعد ان کو اس نکاح کے رکھنے یا مسترد کرنے کا اِختیار ہے،(۱) مگر اس کے لئے یہ ضروری شرط ہے کہ جس مجلس میں وہ بالغ ہوئے ہوں، اسی مجلس میں بالغ ہوتے ہی اس کو مسترد کردیں۔ اور اگر بالغ ہونے کے بعد فوراً اسی مجلس میں نکاح کو مسترد نہیں کیا، بلکہ مجلس کے برخاست ہونے تک خاموش رہے تو نکاح پکا ہوجائے گا، بعد میں اس کو مسترد نہیں کرسکتے۔(۲)

  1. (۱) لو فعل الأب أو الجد عند عدم الأب لَا یکون للصغیر والصغیرۃ حق الفسخ بعد البلوغ۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۶۸، باب الولی، طبع سعید کراچی)۔ وفیہ أیضًا: وإن فعل غیرھما فلھما أن یفسخا بعد البلوغ۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۶۸)۔ وفی البحر الرائق (ج:۳ ص:۱۲۸) کتاب النکاح، باب الأولیاء والأکفاء (طبع دار المعرفۃ، بیروت): (قولہ ولھما خیار الفسخ بالبلوغ فی غیر الأب والجد بشرط القضاء) أی للصغیر والصغیرۃ إذا بلغا وقد زوجا أن یفسحا عقد النکاح الصادر من ولی غیر أب ولَا جد بشرط قضاء القاضی بالفرقۃ۔۔۔ بخلاف ما إذا زوجھما الأب والجد فإنہ لَا خیار لھما بعد بلوغھما لأنھما کاملا الرأی وافرا الشفقۃ فیلزم العقد بمباشرتھما ۔۔۔إلخ۔
  2. (۲) (ولَا یمتد إلٰی آخر المجلس)۔۔۔ إذا بلغت وھی عالمۃ بالنکاح أو علمت بہ بعد بلوغھا فلا بد من الفسخ فی حال البلوغ أو العلم فلو سکتت ولو قلیلًا بطل خیارھا ولو قبل تبدل المجلس۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۷۳، باب الولی)۔