نابالغاولادکانکاح
نابالغلڑکے،لڑکیکانکاحجائزہے
سوال:۔
عرض یہ ہے کہ ہماری برداری میں لڑکے یا لڑکی ابھی چار پانچ سال کے بھی نہیں ہوتے کہ ان کی شادی کردی جاتی ہے، جب وہ جوان ہوتے ہیں تو ان کی رُخصتی کردیتے ہیں۔ لڑکے یا لڑکی کی طرف سے ایجاب و قبول ان کے والدین کرتے ہیں جبکہ لڑکے یا لڑکی کی رضامندی نہیں ہوتی۔ اس طرح کی شادیاں ہمارے اسلام میں جائز ہیں یا نہیں؟
جواب:۔
نابالغ لڑکے، لڑکی کا نکاح ان کے ولی کے ایجاب و قبول کے ساتھ صحیح ہے، اور بالغ ہونے کے بعد باپ دادا کے کئے ہوئے نکاح کو مسترد کرنے کا اِختیار ان کو نہیں۔(۱)
- (۱) وللولی إنکاح الصغیر والصغیرۃ ولو ثیبا ولزم النکاح ولو بغبن فاحشن أو بغیر کفؤ إن کان الولی أبًا وجدًّا۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۶۶، باب الولی، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔ (قولہ ولھما خیار الفسخ بالبلوغ فی غیر الأب والجد بشرط القضاء) أی للصغیر والصغیرۃ إذا بلغا وقد زوجا۔۔۔ بخلاف ما إذا زوجھما الأب والجد فإنہ لَا خیار لھما بعد بلوغھما لأنھما کاملا الرأی وافرا الشفقۃ فیلزم العقد بمباشرتھما کما إذا باشرا برضاھما بعد البلوغ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۲۸، کتاب النکاح، باب الأولیاء والأکفاء، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔

