نابالغاولادکانکاح
بچپنکانکاحکسطرحکیاجائے؟
سوال:۔
ہمارے ہاں عام طور پر یہ رِواج ہے کہ لڑکے اور لڑکی کا رشتہ بچپن میں ہی طے کردیا جاتا ہے، اور بچپن کے نکاح کی درج ذیل مختلف صورتیں ہوتی ہیں:
۱:۔ لڑکے اور لڑکی کے بجائے دونوں کے والدین اِیجاب وقبول کرلیتے ہیں۔
۲:۔ نابالغ لڑکے اور لڑکی سے نکاح کے فارم پر دستخط کروائے جاتے ہیں۔
۳:۔ خطبۂ نکاح کے بعد دونوں کو پانی پلادیا جاتا ہے۔
معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ان صورتوں میں نکاح دُرست ہوگا یا نہیں؟
جواب:۔
نکاح کی جو تین صورتیں لکھی گئی ہیں، ان میں سے دُوسری اور تیسری تو بالکل مہمل ہیں۔ البتہ پہلی صورت صحیح ہے، بشرطیکہ لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ نہ ہوں،(۱) اگر بالغ ہوں تو ان کی رضامندی لینا ضروری ہے، اور اگر وہ راضی نہ ہوں تو نکاح نہیں ہوگا۔(۲)
- (۱) وللولی إنکاح الصغیر والصغیرۃ ولو ثیبًا ولزم النکاح ولو بغبن فاحش أو بغیر کفؤ إن کان الولی أبًا وجدًّا ۔۔۔إلخ۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۶۶، باب الولی، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
- (۲) والسُّنَّۃ أن یستأمر البکر ولیھا قبل النکاح۔۔۔ وإن زوجھا بغیر إستئمار فقد أخطأ السُّنَّۃ وتوقف علٰی رضاھا، انتھٰی۔ وھو محمل النھی فی حدیث مسلم: لَا تنکح الأیم حتّٰی تستأمر ولَا تنکح البکر حتّٰی تستأذن، قالوا: یا رسول اللہ! وکیف إذنھا؟ قال: أن تسکت۔ فھو بیان السُّنَّۃ، للإتفاق علٰی أنھا لو صرحت بالرضا بعد العقد نطقًا فإنہ یجوز۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۲۱، کتاب النکاح، باب الأولیاء والأکفاء، طبع بیروت)۔

