نابالغاولادکانکاح
بچپنمیںکئےہوئےنکاحکیشرعیحیثیت
سوال:۔
جن بچیوں کا نکاح دو ماہ کی عمر یا دو سال کی عمر میں کیا جاتا ہے، ظاہر ہے کہ اِیجاب وقبول کے وہ قابل تو نہیں، جس کی جگہ اس کے والدین یا کوئی دُوسرا سرپرست کرتا ہے۔ لڑکی کے بالغ ہونے پر اس نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے جبکہ لڑکی کو اور اس کے ورثہ کو اَب یہ رشتہ قبول نہیں؟
جواب:۔
نابالغ بچی کا نکاح اگر والد نے کیا ہو تو لڑکی کے بالغ ہونے کے بعد اس کو فسخ کرنے کا اِختیار نہیں، بلکہ وہ نکاح پکا ہے۔ یہی حکم ہے جبکہ نکاح والد کے بجائے دادا نے کیا ہو۔ اور اگر باپ دادا کے علاوہ کسی اور رشتہ دار نے نکاح کرایا تھا تو لڑکی کو بالغ ہونے کے بعد اس کا اِختیار ہوگا کہ نکاح کو رکھے یا نہ رکھے،(۱) لیکن شرط یہ ہے کہ جس مجلس میں وہ بالغ ہوئی ہو اسی مجلس میں اِعلان کردے کہ میں اس نکاح کو نامنظور کرتی ہوں،(۲) واللہ اعلم!
- (۱) ویجوز نکاح الصغیر والصغیرۃ إذا زّوجھما الولی بکرًا کانت الصغیرۃ أو ثیبًا والولی ھو العصبۃ۔۔۔ فإن زوّجھما الأب أو الجد یعنی الصغیر والصغیرۃ فلا خیار لھما بعد بلوغھما۔۔۔ وإن زوّجھما غیر الأب والجد فلکل واحد منھما الخیار إذا بلغ إن شاء أقام علی النکاح وإن شاء فسخ ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۱۶، ۳۱۷، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔
- (۲) إذا بلغت وھی عالمۃ بالنکاح أو علمت بہ بعد بلوغھا فلا بد من الفسخ فی حال البلوغ أو العلم فلو سکتت ولو قلیلا بطل خیارھا۔ (شامی ج:۳ ص:۷۴، باب الولی)۔

