نابالغاولادکانکاح
بچپنکیشادی
سوال:۔
والد نے اپنے فرزند کا نکاح (بچپن میں) کردیا تھا، اب لڑکا، لڑکی کو لانے پر رضامند نہیں ہے، تو طلاق کی نوبت آتی ہے یا نہیں؟ واضح رہے بچپن کی شادی اور جوان آدمیوں کی منگنی بالکل ایک جیسی ہوتی ہے۔ منگنی میں بھی چالیس پچاس آدمی آتے ہیں، ایک دُوسرے کو دینے کا اِقرار ہوتا ہے، مہمانوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے، اس طرح بچپن کی شادی میں چند مہمانوں کو اِقرار (جو کہ والدین کی طرف سے ہوتا ہے، بعینہٖ اس طرح جس طرح کہ لوگ آج کل منگنیوں میں کرتے ہیں) کے بعد کھانا کھلایا گیا۔ جس طرح منگنی میں لکھائی والی کارروائی نہیں ہوتی، بعینہٖ اس طرح بچپن کی شادی میں بھی اس نکاح پر ثانوی کارروائی، لکھائی پڑھائی، الغرض فارم وغیرہ پُر کرنا نہیں ہوتا۔ اس طرح والدین کی رضامندی میں یہ نکاح ہوا، اگرچہ گواہ بھی ہیں، مگر اس سے زائد گواہ منگنی پر ہوتے ہیں، اور پھر مروّجہ منگنی اور بچپن کی شادی اور نکاح کی نوعیت بالکل ایک جیسی ہے۔ اب لڑکی کہتی ہے کہ جی میں تو نہیں جاتی۔ گھر والوں کو کہتی ہے کہ آپ نے اِقرار کیا تھا، آپ چلے جائیں۔ اور اگر لڑکی آنے کے لئے تیار ہے تو لڑکا لانے کے لئے تیار نہیں۔ اب کیا کریں؟ طلاق ضروری ہوگی یا اس نکاح کو بچپن کی وجہ سے کوئی اہمیت ہی نہیں اور طلاق کی بھی ضرورت نہیں؟
۲:۔ کیا والدین کا بچپن میں اولاد کا اس طرح نکاح کرنا شریعت کی رُو سے جائز ہے جو کہ بعد میں اِختلاف ودُشمنی کا سبب بنتا ہے؟
جواب:۔
بچپن کی شادی اگر اس طرح ہو کہ اس میں نکاح کا اِیجاب وقبول ہو، اور مہر مقرّر کیا جائے، اور لڑکی اور لڑکے کے والدین نے بطورِ وکیل اِیجاب وقبول کیا ہو، تو شرعی نکاح ہوجائے گا۔(۱) بعد میں بغیر طلاق کے علیحدگی نہیں ہوسکتی۔
۲:۔ بعض اوقات ایسی ضرورتیں اور مصلحتیں سامنے آتی ہیں کہ والدین بچوں کی نابالغی کی حالت میں شادی کردینا چاہتے ہیں، اس لئے شرعاً بچپن کی شادی جائز ہے۔(۲)
- (۱) ثم النکاح کما ینعقد بھٰذہ الألفاظ بطریق الْإصالۃ، ینعقد بھا بطریق النیابۃ بالوکالۃ والرسالۃ، لأن تصرف الوکیل کتصرف المؤکل۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۳۱، کتاب النکاح، فصل فی رکن النکاح، طبع سعید کراچی)۔
- (۲) وللولی إنکاح الصغیر والصغیرۃ ولو ثیبًا ولزم النکاح ولو بغبن فاحش أو بغیر کفؤ إن کان الولی أبًا وجدًّا ۔۔۔إلخ۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۶۶، باب الولی، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔

